2۔ بغل کے بال اکھیڑنا
بغل اور زیر ناف کے بالوں کو صاف کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور تاکید فرمائی کہ ان مقامات پر چالیس دن سے زیادہ بال رکھنا عبادت میں نقص پیدا کرتا ہے۔ نیز بالوں کے صفا کرنے کا یہ عمل جسم کو کئی مضر جراثیموں سے بچاتا ہے اور قوت باہ میں زیادتی کا سبب بھی ہے۔
اسلام کی کیسی جامع ہدایات ہیں کہ پاکیزگی کے ساتھ روح مین تجلی بھی حاصل ہوتی ہے اور روح کو ارتقاء نصیب ہوتا ہے۔
3۔ مونچھیں کم کرنا
تاجدار رسالت کا فرمان عالی شان ہے جو شخص مونچھیں نہ کٹائے وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی و نسائی)
جدید تحقیق کے مطابق اگر مونچھیں بڑی ہوں تو جراثیم ان میں اٹک جاتے ہیں اور یہی جراثیم اس وقت اندر چلے جاتے ہیں جب ہم غذا کھاتے ہیں جس سے طرح طرح کی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔
4۔ موئے زیر ناف مونڈنا
اس کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔
5۔ ختنہ کرنا
یہ فعل مسلمانوں کو نہ صرف دیگر اقوام سے ممتاز رکھتا ہے بلکہ ختنہ کروانے کی وجہ سے پیشاب کی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ چنانچہ اس کی افادیت کے پیش نظر خاص کر یہودی اور عیسائی اور دیگر قومیں بھی ختنہ کے عمل کو تیزی سے اپنا رہی ہیں۔






اقتباس کے ساتھ جواب دیں

بک مارک