قبلہ کی تبدیلی قبلہ کی تبدیلی:
جب تک حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مکہ میں رہے۔ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ مگر ہجرت کے بعد جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو خداوند تعالٰی کا یہ حکم ہوا کہ آپ اپنی نمازوں میں “بیت المقدس“ کو اپنا قبلہ بنائیں۔ چنانچہ آپ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ مگر آپ کے دل کی تمنا یہی تھی کہ کعبہ ہی کو قبلہ بنایا جائے۔ چنانچہ آپ اکثر آسمان کی طرف چہرہ اٹھا اٹھا کر اس کے لئے وحیء الٰہی کا انتظار فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک دن اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی قلبی آرزو پوری فرمانے کے لئے قرآن کی یہ آیت نازل فرما دی کہ۔
قد نرٰی تقلب وجھک فی السمآء فلنولینک قبلۃ ترضھا فول وجھک شطر المسجد الحرام۔ (البقرۃ آیت 144)
“ہم دیکھ رہے ہیں بار بار آپ کا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ہم ضرور آپ کو پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں آپ کی خوشی ہے تو ابھی آپ پھیر دیجئے اپنا چہرہ مسجدحرام کی طرف۔ “
چنانچہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بنی سلمہ کی مسجد میں نماز ظہر پڑھا رہے تھے۔ کہ حالت نماز ہی میں یہ وحی نازل ہوئی اور نماز ہی میں آپ نے بیت المقدس سے مڑ کر خانہ کعبہ کی طرف اپنا چہرہ کر لیا اور تمام مقتدیوں نے بھی آپ کی پیروی کی۔ اس مسجد کو جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ “مسجدالقبلتین“ کہتے ہیں اور آج بھی یہ تاریخی مسجد زیارت گاہ خواص و عام ہے۔ جو شہر مدینہ سے تقریباً دو کلو میٹر دور جانب شمال مغرب واقع ہے۔
اس قبلہ بدلنے کو “تحویل قبلہ“ کہتے ہیں۔ تحویل قبلہ سے یہودیوں کو بڑی سخت تکلیف پہنچی جب تک حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ تو یہودی بہت خوش تھے اور فخر کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) بھی ہمارے ہی قبیلہ کی طرف رخ کرکے عبادت کرتے ہیں۔ مگر جب قبلہ بدل گیا تو یہودی اس قدر برہم اور ناراض ہو گئے کہ وہ یہ طعنہ دینے لگے کہ محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) چونکہ ہر بات میں ہم لوگوں کی مخالفت کرتے ہیں اس لئے انھوں نے محض ہماری مخالفت میں قبلہ بدل دیا ہے۔ اسی طرح منافقین کا گروہ بھی طرح طرح کی نکتہ چینی اور قسم قسم کے اعتراضات کرنے لگا۔ تو ان دونوں گروہوں کی زبان بندی اور دہن دوزی کے لئے خداوندکریم نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
سیقول السفھآء من الناس ما ولھم عن قبلتھم التی کانوا علیھا ط قل للہ المشرق والمغرب یھدی من یشآء الی صراط مستقیم ہ وما جعلنا اقبلۃ التی کنت علیھا الا لنعلم من یتبع الرسول ممن ینقلب علی عقبیہ وان کانت لکبیرہ الا علی الذین ھدی اللہ ط (البقرۃ 143)
“اب کہیں گے بیوقوف لوگ کس نے پھیر دیا مسلمانوں کو ان کے اس قبلہ سے جس پر وہ تھے تم فرما دو کہ پورب پچھم سب اللہ ہی کا ہے وہ جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے اور (اے محبوب) آپ پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے ؟ اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے اور بلاشبہ یہ بڑی بھاری بات تھی مگر جن کو اللہ تعالٰی نے ہدایت دے دی ہے۔ (ان کے لئے کوئی بڑی بات نہیں) “
پہلی آیت میں یہودیوں کے اعتراض کا جواب دیا گیا کہ خدا کی عبادت میں قبلہ کی کوئی خاص جہت ضروری نہیں ہے۔ اس کی عبادت کے لئے پورب، پچھم، اتر، دکھن، سب جہتیں برابر ہیں۔ اللہ تعالٰی جس جہت کو چاہے اپنے بندوں کے لئے قبلہ مقرر فرما دے۔ لٰہذا اس پر کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں ہے۔ دوسری آیت میں منافقین کی زبان بندی کی گئی جو تحویل قبلہ کے بعد ہر طرف یہ پروپیگنڈہ کرنے لگے تھے کہ پیغمبر اسلام تو اپنے دین کے بارے میں خود ہی متردد ہیں۔ کبھی بیت المقدس کو قبلہ مانتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ کعبہ قبلہ ہے۔ آیت میں تحویل قبلہ کی حکمت بتا دی گئی کہ منافقین جو محض نمائشی مسلمان بن کر نمازیں پڑھا کرتے تھے وہ قبلہ کے بدلتے ہی بدل گئے۔ اور اسلام سے منحرف ہو گئے اس طرح ظاہر ہو گیا کہ کون صادق الایمان ہے ؟ اور کون منافق ؟ اور کون رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنے والا ہے ؟ اور کون دین سے پھر جانے والا ؟ (عام کتب تفسیر و سیرت) __________________ |