پہلے سرکار کی محفل کو سجانا ہوگا !!
پہلے سرکار کی محفل کو سجانا ہوگا
دیکھنا پھر میرے سرکار کا آنا ہوگا !!
طالبِ دید کو دیدار مدینہ ہوگا
دل کی جانب ذرا نظروں کو جھکانا ہوگا !!
نعت لکھتا ہی رہوں نعت میں پڑھتا ہی رہوں
خُلد میں یہ میرے جانے کا بہانا ہوگا !!
دیر کرتے ہی نہیں جھولیاں بھرنے کے لئے
اُن کے دربار میں دامن کو بچھانا ہوگا !!
کیوں تُو گھبرائے ارے اُن کا ثناء خواں ہو کر
قبر میں ساتھ یہ نعتوں کا خزانہ ہوگا !!
پنجتن کا ہوں گدا کتنا کرم ہے مجھ پر
میرا حامی وہاں آقا کا گھرانہ ہوگا !!
ہیں ابو بکر و عُمر اور عثمان و علی
جس زمانے میں وہ کیا خوب زمانہ ہوگا !!
جب میں پہنچوں گا مدینے میں کرم سے اُن کے
کیا سماں نور کا کیا وقت سہانہ ہوگا !!
پھر ملا اذن مدینہ کا جو مقدر سے ہمیں
گھر کا گھر پھر درِ آقا کو روانہ ہوگا !!
جو یہ چاہے کہ ملے اُس کو بقائے ابدی
عشقِ سرکار میں ہستی کو مٹانا ہوگا !!
ہو یہ انصاری شہا آپ کے قدموں پہ نثار
انشاءاللہ میری بخشش کا بہانہ ہوگا !!