عورت کا تبلیغ کیلئے ٹی وی پر آنا
عورت کے دل میں یہ خواہش ہمیشہ سے موجود رہی ہے کہ کوئی اس کے حسن کو سراہے یہ خواہش ہمیشہ جلی اور نمایاں ہی نہیں ہوتی دل کے پردوں میں کہیں نہ کہیں نمائش حسن کا جذبہ چھپا ہوتا ہوتا ہے اور وہی لباس کی زینت میں، بالوں کی آرائش میں باریک اور شوخ کپڑوں کے انتخاب میں اور ایسے ایسے خفیف جزئیات تک میں اپنا اثر ظاہر کرتی ہے جن کا احاطہ ممکن نہیں ہے قرآن پاک نے ان سب کیلئے ایک جامع اصطلاح “تبرج الجاھلیۃ“ استعمال کی ہے ہر وہ زینت اور ہر وہ آرائش جس کا مقصد شوہر کے سوا دوسروں کے لئے لذت نظر بننا ہو تبرج جاہلیت کی تعریف میں آ جاتی ہے اگر برقع بھی اس غرض کیلئے خوب صورت اور خوش رنگ انتخاب کیا جائے کہ نگاہیں اس سے لذت یاب ہوں تو یہ بھی تبرج جاہلیت ہے اس کیلئے کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا اس کا تعلق عورت کے اپنے ضمیر سے ہے اس کو خود ہی اپنے دل کا حساب لینا چاہئیے کہ اس میں کہیں یہ ناپاک جذبہ تو چھپا ہوا نہیں ہے اگر ہے تو وہ اس حکم خداوندی کی مخاطب ہے کہ “ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی۔“ (سورۃ الاحزاب، پارہ نمبر22، آیت نمبر33)
ترجمہ کنزالایمان:۔ اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسی اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔“
عن عائشہ صدیقۃ رضی اللہ تعالٰی عنھا بینھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جالس فی المسجد دخلت امراءۃ من مزینۃ تدخل فی زینۃ لھا فی المسجد فقال النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یایھا الناس انھو نسآءکم عن لبس الزینۃ والتبخر فی المسجد فان بنی اسرآئیل لم یلعنوا حتی لبس نسآء ھم الزینۃ وتبخترو فی المسجد۔“ (ترغیب، جلد نمبر3، صفحہ نمبر161 و ابن ماجہ)
ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجلس میں تشریف فرما تھے قبیلہ مزینہ کی ایک عورت زینت میں ملبوس مسجد میں آئی آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اے لوگو! اپنی عورتوں کو زینت کے اختیار کرنے سے منع کرو اور مسجد میں ناز و انداز سے چلنے سے روکو بنی اسرائیل پر اس وقت تک لعنت نہیں کی گئی جب تک کہ ان عورتوں نے زینت کو اور مسجد میں ناز انداز کو اختیار نہیں کیا۔
اس حدیث مبارکہ اور آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو گھروں میں ٹھہرے رہنے کا حکم ہے جبکہ آج کی عورت نے مردوں والے ہر کام اپنے ذمہ لیکر مردوں کو آزاد کر دیا ہے آج دنیا کا کون سا شعبہ ہے جس میں عورت نے کامیابی کے جھنڈے نہیں گاڑ رکھے ہیں۔ جبکہ میرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان عالیشان ہے کہ “عورتوں کو گھروں میں رہنے کی عادت ڈالو۔“ (احیاء العلوم، صفحہ87، جلد2)
اور ایک جگہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ “عورتوں کو اچھے کپڑے نہ پہناؤ تاکہ وہ گھروں میں بیٹھیں کیونکہ جب اچھے کپڑے پہنیں گی تو باہر جانے کی آرزو پیدا ہوگی۔“ (کیمیائے سعادت، صفحہ نمبر264)
حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ “مسلمانو! تم اپنی عورتوں کو بازاروں کو روزانہ کر دیتے ہو کیا غیرت نہیں کرتے ہو ؟ فرمایا، “اللہ تعالٰی اس کا بُرا کرے جو غیرت نہیں کرتا۔“ (احیاء العلوم، صفحہ نمبر86، جلد2)
ہمارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو عورتوں کو عید کے دن بالخصوص نکلنے کی اجازت دی تھی مگر مشروط باجازت اپنے خاوندوں کے اور اس زمانہ کے اور اس میں زمانہ بھی پارسا عورت کو باجازت اپنے شوہر کے نکلنا مباح ہے مگر نہ نکلنے میں احتیاط زیادہ ہے اور عورت کو چاہئیے کہ بدون کسی امر ضروری کے نہ نکلے کیونکہ تماشوں اور غیر ضروری کاموں کیلئے نکلنا شرافت کا مخل ہے اور بعض اوقات فساد بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ (احیاء العلوم، صفحہ نمبر7، جلد دوم)
عورت کیلئے بہتر یہ ہی ہے کہ وہ جہاں تک ہو سکے گھر کے ماحول کو اپنائے رکھے اسی میں اس کی بھلائی ہے اور اپنے آپ کو سیرت امہات المومنین میں ڈھالنے کی کوشش میں لگی رہے کیونکہ اللہ تعالٰی عزوجل نے عورت کو اس لئے نہیں پیدا کیا کہ وہ شمع محفل بنے اور ہوس پرستوں کی ہوس کا نشانہ بنے۔
کیونکہ جو عورتیں بن سنور کر باہر نکلتی ہیں اور بے پردہ ہو کر یا برقع پہن کر تبلیغ کرتی نظر آتی ہیں ٹی وی پر ان سے ہرگز ہرگز اللہ تعالٰی عزوجل اور اس کا حبیب (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) خوش نہیں ہوں گے۔