Go Back   فیض رضا - FaizeRaza > احادیث مبارکہ > صحاح ستہ > صحیح بخاری


کچھ معلومات : ارسال کیا قادری نے بوقت 02-20-2009 (06:28 PM), آخری پیغام موصول ہوا 02-20-2009 (06:30 PM). اس دھاگے میں پوسٹ ہوئے ہیں 1 جوابات یہ دھاگہ دیکھا گیا ہے 192 مرتبہ.

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 02-20-2009, 06:28 PM   #1
قادری
سگ غوث الاعظم
رکن
 
قادری's Avatar
 
Join Date: Nov 2006
Posts: 2,057
Thanks: 480
Thanked 2,267 Times in 677 Posts

ایوارڈ شوکیس
1000 پیغامات 500 پیغامات 
Total Awards: 2

Default 7-2-2 کتاب الایمان باب 2

کتاب نمبر 2 کتاب الایمان باب نمبر 2

قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏‏ بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ ‏وَهُوَ قَوْلٌ وَفِعْلٌ، وَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ‏.‏ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ‏}‏‏.‏ ‏{‏وَزِدْنَاهُمْ هُدًى‏}‏ ‏{‏وَيَزِيدُ اللَّهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى‏}‏ ‏{‏وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ‏}‏ ‏{‏وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا‏}‏ وَقَوْلُهُ ‏{‏أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا‏}‏‏.‏ وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ ‏{‏فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا‏}‏‏.‏ وَقَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَمَا زَادَهُمْ إِلاَّ إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا‏}‏‏.‏ وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ مِنَ الإِيمَانِ‏.‏ وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ إِنَّ لِلإِيمَانِ فَرَائِضَ وَشَرَائِعَ وَحُدُودًا وَسُنَنًا، فَمَنِ اسْتَكْمَلَهَا اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَكْمِلْهَا لَمْ يَسْتَكْمِلِ الإِيمَانَ، فَإِنْ أَعِشْ فَسَأُبَيِّنُهَا لَكُمْ حَتَّى تَعْمَلُوا بِهَا، وَإِنْ أَمُتْ فَمَا أَنَا عَلَى صُحْبَتِكُمْ بِحَرِيصٍ‏.‏ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ ‏{‏وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي‏}‏‏.‏ وَقَالَ مُعَاذٌ اجْلِسْ بِنَا نُؤْمِنْ سَاعَةً‏.‏ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ الْيَقِينُ الإِيمَانُ كُلُّهُ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ التَّقْوَى حَتَّى يَدَعَ مَا حَاكَ فِي الصَّدْرِ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏شَرَعَ لَكُمْ‏}‏ أَوْصَيْنَاكَ يَا مُحَمَّدُ وَإِيَّاهُ دِينًا وَاحِدًا‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا‏}‏ سَبِيلاً وَسُنَّةً‏ وَّ دُعَاؤُكُمْ إِيمَانُكُمْ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اور وہ قول ہے اور فعل بڑھتا ہے اور گھٹتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:- تاکہ ایمانوں کے ساتھ اُن کےایمان اور بڑھ جائیں گے اور ہم نے ان کے لیے ہدایت کو بڑھا دیا اور اللہ ان کی ہدایت کو بڑھا دیتا ہے جو ہدایت پر ہیں اور جو ہدایت پر تھے ان کی ہدایت کو بڑھادیا اور انھیں ان کا تقویٰ دیا اور ایمان والوں کے ایمان کو بڑھا دیتا ہے۔ اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے اس چیز نے تم میں سے کس کے ایمان کو بڑھایا؟ پس جو ایمان والے تھے ان کے ایمان کو بڑھایا اور ارشادِ ربّانی ہے :- اور نہیں زیادہ کیا مگر ان کے ایمان اور اسلام کو نیز اللہ کے لیے محبت رکھنا اور اللہ کے لیے عداوت رکھنا ایمان کا حصہ ہے اور عمربن عبدالعزیز نے عدی بن عدی کے لیے لکھا کہ ایمان کے کچھ فرائض، ضابطے، حدود اور طریقے ہیں، جس نے ان کی تکمیل کی اس نے ایمان کو مکمل کر دیا اور جس نے ان کی تکمیل نہ کی اس نے ایمان کو مکمل نہ کیا۔ اگر میں زندہ رہا تو تمہیں تفصیلاً بتاؤنگا تاکہ تم انھیں جان لو اور اگر فوت ہوگیا تو مجھے تمہارے پاس زندہ رہنے کا لالچ بھی نہیں ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا :- تاکہ میرے دل کو عین الیقین ہو جائے اور حضرت معاز نے کہا: ہمارے پاس بیٹھو تاکہ ہم ایک ساعت مطمئن رہیں حضرت ابنِ مسعود نے فرمایا کہ یقین ہی سارا ایمان ہے اور حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ بندہ تقویٰ کی حقیقت تک نہیں پہنچتا یہاں تک کہ ان چیزوں کو چھوڑ دے جو دل میں کھٹکتی ہیں۔ اور مجاہد نے شَرَعَ لَکُمْْ مِنَ الدّیْْنِ مَا وَصّی بِہ نُوْْحاً کی تفسیر میں کہا: اے محمد! ہم نے تمہیں اور اُسے ایک ہی دین کی وصیت فرمائی۔ حضرت ابنِ عباس نے شِرْْعَۃً وَّ مِنْْھَاجاً کی تفسیر میں فرمایا: راستہ اور طریقہ اور تمہارا دعا کرنا بھی تمہارے ایمان کا حصہ ہے۔
ف: امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دیگر محدثین کی طرح اعمال بھی ایمان میں داخل ہیں۔ ایمان کا لفظ امن سے مشتق ہے جس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ایمان لاکر آدمی اپنے آپ کو آخرت اور عذاب سے بچالیتا ہے۔ ایمان سے مراد اللہ تعالیٰ کے وجود اُس کی الوہیت ووحدانیت کو تسلیم کرنا نیز رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو برحق رسول اور سارے انبیاءومرسلین میں سب سے آخری نبی و رسول تسلیم کرنے کو کہتے ہیں۔ علاوہ بریں سارے اسلامی عقائد کو قبول کرنا اور اُن کے ساتھ ہی سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو احکام اور خبریں لوگوں تک پہنچائیں اور وہ قطعی طور پر یا تواتر سے ثابت ہیں ان کو درست مان کر قبول کیا جائے ایسا کرنے والا صاحبِ ایمان کہلاتا ہے۔ امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور محدثین حضرات کے نزدیک جہاں تصدیق اور اقرار دونوں ایمان کے اجزا ہیں وہاں یہ بزرگ اعمال کو بھی ایمان کے اجزا میں شامل کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا موقف بھی یہی ہے۔ اسی لیے یہ جملہ بزرگ ایمان میں کمی اور زیادتی کے قائل ہیں لیکن اس کے باوجود بے عمل اور بدعمل کو معتزلہ کی طرح ایمان سے خارج نہیں کرتے بلکہ اسے فاسق کہتے ہیں۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ایمان کے صرف دو اجزا ہیں یعنی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار۔ لیکن اضطراری حالت میں ان کے نزدیک اقرار بھی ساقط ہوجاتا ہے گویا اقرار صرف صورتاً ایمان کا جزو ہے ورنہ اقرار شرط ہے جس کے باعث ایسے فرد پر اسلامی احکام جاری ہوتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک اعمال شامل ایمان نہیں ہیں بلکہ یہ ایمان کا حسن وجمال اور زیب و زینت ہیں نیز ایمان میں ان کے نزدیک کمی اور زیادتی واقع نہیں ہوتی کیونکہ وہ تصدیق اور اقرار پر موقوف ہے اور تصدیق و اقرار کے اندر کمی بیشی متصور نہیں ہے۔ ہاں ان کے نزدیک ایمان قوی اور ضعیف ہوتا ہے کمی اور بیشی اسی صورت میں تسلیم ہو سکتی ہے جب اعمال کو شامل ایمان سمجھا جائے۔ علم کلام کے دونوں اماموں یعنی امام ابوالحسن شعری اور امام ابو منصور ماتریدی رحمۃ اللہ علیہما کا موقف بھی امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے موقف سے مطابقت رکھتا ہے اور کتنے ہی علمائے محققین کی یہی رائے ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
قادری is offline   Reply With Quote
Old 02-20-2009, 06:30 PM   #2
قادری
سگ غوث الاعظم
رکن
 
قادری's Avatar
 
Join Date: Nov 2006
Posts: 2,057
Thanks: 480
Thanked 2,267 Times in 677 Posts

ایوارڈ شوکیس
1000 پیغامات 500 پیغامات 
Total Awards: 2

Default

حدیث نمبر 7

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ‏"‏‏.

عکرمہ بن خالد نے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : گواہی دینا کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ نیز محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج اور رمضان کے روزے۔
قادری is offline   Reply With Quote
Reply

Tags
2, الایمان, باب, کتاب
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
کتاب الایمان /نیت / نیت خیر پر اجر قادری جامع الاحادیث 0 08-23-2009 05:28 PM
47-36-2 کتاب الایمان باب نمبر 36 قادری صحیح بخاری 2 02-25-2009 02:32 AM
19-13-2 کتاب الایمان باب نمبر 13 قادری صحیح بخاری 1 02-21-2009 01:18 AM
17-11-2 کتاب الایمان باب نمبر 11 قادری صحیح بخاری 1 02-20-2009 07:30 PM
8-3-2 کتاب الایمان باب نمبر 3 قادری صحیح بخاری 1 02-20-2009 06:35 PM


تمام اوقات GMT +5 ہیں۔ اب وقت ہوا ہے۔12:54 PM