![]() |
|
|||||||
| کچھ معلومات : ارسال کیا شیرمحمد نے بوقت 11-27-2009 (02:49 AM), آخری پیغام موصول ہوا 11-27-2009 (02:49 AM). اس دھاگے میں پوسٹ ہوئے ہیں 0 جوابات یہ دھاگہ دیکھا گیا ہے 76 مرتبہ. |
![]() |
|
|
Thread Tools | Display Modes |
|
|
#1 |
|
کارکن
Join Date: Mar 2007
Posts: 513
Thanks: 61
Thanked 1,032 Times in 282 Posts
|
سوال: : کیا ٹی وی دیکھنا جائز ہے ؟
جواب: ٹی وی چونکہ ابلاغ وترسیل کا اہم ذریعہ ہے ، اس کے ذریعہ عریانیت پر مشتمل ، مخرب اخلاق پروگرامس بھی نشر کیئے جاتے ہیں، مذہبی وتعلیمی ، ثقافتی وتربیتی پروگرامس بھی ، اگر مخرب اخلاق، حیاء سوز پروگرامس سے بالکلیہ اجتناب کرتے ہوئے خالص دینی تعلیمی وثقافتی پروگرامس ، اسلامی دروس وغیرہ کی حد تک ہی اس سے استفادہ کیا جانے کا اہتمام کیا جائے تو ٹی وی رکھنے اور دیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ،اس کا یہ پہلو مفید ہے، لیکن فلمیں ، فحش مناظر اور عریانیت پر مبنی پروگرامس دیکھے جائیں تو یہ دینی ودنیوی ہر دو لحاظ سے مضر ونقصاندہ ، ناجائز وحرام ہے – اسی لئے دین اسلام نے فتنوں کے سد باب کے لئے ان تمام ذرائع سے اجتناب کرنے کا حکم فرمایا جن سے فتنے وقوع پذیر ہوتے ہیں- ٹی وی استعمال کے اعتبار سے بمنزل آنکھ ہے ، جس طرح آنکھ سے جائز ومباح اشیاء کو دیکھنا جائز ہے اور یہ اس کے استعمال کا درست کا طریقہ ہے ، برخلاف اس کے اگر آنکھ سے حرام مناظر اور فحش چیزیں دیکھی جائے تو یہ ناجائز وحرام ہے اور اس کا غلط استعمال ہے ، اسی طرح ٹی وی ، انٹرنیٹ وغیرہ کا حکم بھی ان کے استعمال پر ہے ، اگر محل مشروع میں استعمال کیا جائے تو جائز اور محل حرام میں استعمال کیا جائے تو ناجائز ہے – اصول فقہ کا ایک مسلمہ قاعدہ ہے : الامور بمقاصدها- ترجمہ :معاملات ان کے مقاصد کے ساتھ ہیں- (الاشباہ والنظائر- ص22) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| دیکھناکیسا, وی, ٹی, ھے |
| Thread Tools | |
| Display Modes | |
|
|