]۱[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ ادنی درجہ تکریم کا ہے کہ نام لیکر نہ پکارا فلاں کا باپ کہا ، یا آتے وقت جگہ
دینے کو آئیے کہا ۔اللہ اکبر حدیث اس سے بھی منع فرماتی ہے ۔ ائمہ دین ذمی کافر کی نسبت وہ احکام تحقیر و تذلیل فرماتے ہیں کہ اسے محر ر بنانا حرام، کوئی ایسا کام سپرد کرنا جس سے مسلمانوں میں اسکی بڑ ائی ہو حرام ، اسکی تعظیم حرام ، مسلمان کھڑا ہو تو اسے بیٹھنے کی اجازت نہیں ، بیماری وغیرہ ناچاری کے باعث سواری پر ہو تو جہاں مسلمانوں کا مجمع آئے فورا ًاتر پڑ ے حتی کہ فتاوی ظہیریہ ، الاشبا و النظائر، تنویرا لابصار، اور در مختار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے ۔
لو سلم علی الذمی تبجیلا یکفر۔ لان تبجیل الکافر کفر ۔
اگر ذمی کو تعظیما سلام کرے گا کافر ہوجائیگا کہ کافر کی تعظیم کفر ہے ۔
فتاوی امام ظہیر الدین اشباہ اور در مختار وغیرہا میں ہے ۔
لو قال لمجوسی یا استاذ تبجیلا کفر۔
اگر مجوسی کو اے استاذ تعظیما کہا کافرہو گیا ۔
المحجۃ المؤتمنہ ص ۸۵