Go Back   فیض رضا - FaizeRaza > Rad e Badmazhab > Rad e Badmazhab > Rad e Shia


Some Details: Posted by شیرمحمد on 12-22-2009 (06:49 PM), last reply was on 12-22-2009 (11:49 PM). This thread has received 2 replies and been viewed 251 times.

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 12-22-2009, 06:49 PM   #1
شیرمحمد
کارکن
 
شیرمحمد's Avatar
 
Join Date: Mar 2007
Posts: 558
Thanks: 61
Thanked 1,221 Times in 325 Posts
Default حلت متعہ پر شیعہ حضرات کی دلیل اول

حلت متعہ پر شیعی دلائل اور ان كے جوابات

دلیل اول

فَمَا اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہٖ مِنْہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً
پ 5 آیت 1
ترجمہ
پھر ان سے جن سے تم متعہ كرلو تو مقرر كیا ہوا مہر انہیں دے دو ۔
ترجمہ مقبول

طریقہ استدلال شیعہ
ذكر كی گئی آیت سے ثبوت متعہ دو الفاظ سے ہوتا ہے لفظ اول استمتعتم اور لفظ دوم اجورھن سے ۔ طریقہ ثبوت یہ ہے كہ پہلا لفظ باب استفعال سے ہے ، جس سے اگر حروف زائدہ كو چھوڑكر حروف اصلیہ لیے جائیں تو میم تاء اور عین بنتے ہیں گویا اس لفظ كا اصل متعہ ہے دوسرے لفظ میں اجور جمع ہے اور اس كا واحد اجر ہے ، اجر معنی اجرت ،مزدوری اور معاوضہ ہوتے ہیں لہذا ان دونوں الفاظ كے مفہوم كے پیش نظر پوری آیت كا مفہوم یہ ہوا كہ جب تم عورتوں سے متعہ كرلو تو ان سے مقرركردہ اجرت ان كو دے دو تو اس ترجمہ سے بغیر تاویل كے متعہ معروفہ ثابت ہوتا ہے اور لفظ اجرت سے حق مہر اس لیے مراد نہیں ہوسكتا كیونكہ حق مہر كا استعمال نكاح دائمی كے اندر مقرر كردہ رقم پر ہوتا ہے اور متعہ چونكہ مقرر كردہ وقت كے لیے ہوتا ہے ۔ اس لیے اس كے مقابلہ میں اجرت ہی كہنا مناسب تھا ۔ اور اس ترجمہ و مفہوم كی تائید ایك قرائت سے بھی ہوتی ہے جو حضرت ابی بن كعب رضی اللہ عنہ كی ہے انہوں نے اس آیت كو اس طرح پڑھا فما استمتعتم بن منھن الی اجل مسمی فاتوھن اجورھن فریضۃ یعنی اے مردو ! تم نے ان عورتوں سے جو مخصوص وقت تك نفع اٹھایا (متعہ كیا) تو ان كو اس كی مقرر كردہ اجرت ادا كردو ۔ اور یہ بات بالكل واضح ہے كہ جس عقد میں وقت بھی مقرر ہو اور اجرت بھی متعین ہو تو وہ عقد متعہ ہی ہوسكتا ہے جیسا كہ گذشتہ پیغامات میں اس كی تفصیل و تشریح گزرچكی ہے ۔

مذكورہ استدلال كے چند دندان شكن جواب

جواب اول


آیت زیر بحث كہ جس سے شیعہ لوگوں نے حلت متعہ پر استدلال كیا ہے وہ مكمل آیت نہیں ۔ بلكہ آیت كا آخری حصہ ہے اگر پوری آیت كو پڑھ كر اس كے مفہوم و معانی كو بغور دیكھا جائے اور نظر انصاف سے سمجھا جائے تو اس پوری آیت سے متعہ معروفہ كا ثبوت صریح تو بہت دور كی بات ہے اس كا تصور بھی نہیں آتا ۔ پوری آیت كریمہ ملاحظہ فرمائیے ۔

وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُکُمْ ۚ کِتٰبَ اللہِ عَلَیۡکُمْ ۚ وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوَالِکُمۡ مُّحْصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہٖ مِنْہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ فِیۡمَا تَرٰضَیۡتُمۡ بِہٖ مِنۡۢ بَعْدِ الْفَرِیۡضَۃِ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۲۴﴾

پ٥ ركوع اول سورۃ النسآء آیت 24

(مائیں ،بیٹیاں اور بہنیں وغیرہ عورتیں جن كا اس آیت سے پچھلی آیت میں ذكر ہوچكا ان سے نكاح كرنا تم پر حرام كردیا ) اور انہی كی طرح ان عورتوں سے بھی نكاح حرام ہے جو شوہر والی ہیں ، ہاں جو تمہاری لونڈیاں ہیں (وہ حرام نہیں ) اللہ تعالی نے تمہارے لیے یہ حكم لازم (فرض) كردیا ہے۔ مذكورہ محرمات كے علاوہ تم بعوض مال جس عورت كو چاہو نكاح میں لاسكتے ہو لیكن ان سے یہ تعلق بطریقہ پاكدامنی اور حرام كاری سے بچنے كی غرض سے ہو ، اس نكاح سے محض شہوت رانی مطلوب و مقصود نہ ہو اور اس مقصد كے پیش نظر اگر تم نے كسی عورت سے نكاح كرلیا تو ان كو ان كا حق مہر پورا ادا كرو ۔


قارئین غور فرمائیں كہ اس آیت كریمہ میں اللہ تعالی نے پہلے ان عورتوں كا ذكر كیا جن میں نكاح حرام ہے اور پھر ان كے سوا بقیہ عورتوں سے نكاح كے حلال ہونے اور اس كے طریقہ كو بیان فرمایا اور كہا كہ اگر كسی عورت كو رشتہ ازواجیت میں لینے كی خواہش ركھتے ہو تو اس كا طریقہ یہ ہے كہ یہ خواہش اپنے مال كے ذریعہ پوری كرو یعنی حق مہر ضرور باندھو اور اس خواہش كی تكمیل محض پاكدامنی كی خاطر ہونی چاہیے شہوت رانی كا اس میں كوئی خیال و مقصد نہ ہونا چاہیے ۔

پچھلے پیغامات میں ہم بہت سے حوالاجات سے یہ ثابت كر آئے ہیں كہ متعہ آدمی كا مقصد وحید صرف شہوت پرستی اور حصول لذت ہی ہوتا ہے جس سے آیت زیر بحث میں منع كیا گیا ہے ، اور پاكدامنی پر زور دیا گیا ہے لہذا فما استمتعتم سے متعہ معروفہ كسی طور پر بھی مراد نہیں ہوسكتا بلكہ اس سے نكاح دائمی كے ذریعہ منكوحہ عورت سے نفع اندوز ہونا مقصود ہے اور اس طرح كے نكاح میں جو مال صرف كیا جاتا ہے اسے حق مہر كہتے ہیں اور اجور سے مراد بھی یہی ہے ۔

جواب دوم
وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوَالِکُمۡ مُّحْصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہٖ مِنْہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ فِیۡمَا تَرٰضَیۡتُمۡ بِہٖ مِنۡۢ بَعْدِ الْفَرِیۡضَۃِ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۲۴﴾

پ٥ آیت ١

فما استمتعم میں لفظ ما سے مراد نكاح ہے اور بہ میں باء سببیت كے لیے ہے اور ضمیر مجروہ ہ كا مرجع نكاح ہے منھن میں لفظ من تبعیضیہ اور ھن كا مرجع احل لكم ما میں لفظ ما ہے اس تركیب كے پیش نظر آیت كا معنی یہ ہوا ماوں بہنوں وغیرہ محرمات كے سوا دوسری عورتوں سے نكاح كرنا تمہارے لیے جائز قرار دیا گیا ہے اور ان كو بذریعہ مال اپنے نكاح میں لاؤ ، اس طرح ازواج (بیویوں) كی تلاش كرو۔ اور اس مقصد كے حصول میں پاكدامنی اور احصان كی نیت ہو ۔ نہ كہ شہوت رانی ۔
پس وہ نكاح كہ بطریق احصان جس كے ذریعہ اور سبب سے تم نے ان عورتوں سے نفع اٹھایا كہ جن كو تم نے پاكدامنی كی نیت سے اپنے مالوں سے تلاش كیا ان كو ان كے مقررہ حق مہر ادا كرو ۔
فما استمتعتم بہ منھن میں ضمیر ھن كا جب مرجع ہی منكوحات ٹھریں تو پھر اس آیت سے متعہ معروفہ كو ثابت كرنا كس قدر جہالت اور بے علمی ہے ۔

جواب سوم
آیت مذكور كے الفاظ فما استمتعتم اور اجورھن سے متعہ اور اجرت كی مقررہ مراد لے كر اس سے متعہ معروفہ ثابت كرنا صرف سینہ زوری ہی نہیں ، بلكہ علوم قرآن اور مفہوم قرآن سے لاعلمی اور جہالت كا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔
فما استمتعتم كا اصل استمتاع ہے اور استمتاع سے حروف زوائد كو نكال دیاجائے تو متاع باقی رہ جاتا ہے اور متاع كا معنی نفع اٹھانا ہے متعہ معروفہ نہیں جس كی تفصیل ہم پہلے دو جوابات میں تحریر كرچكے ہیں اس وضاحت كے ہوتے ہوئے دعوٰی كرنا كہ فما استمتعتم سے متعہ معروفہ ثبوت صراحتہ ہے اور یہ آیت كریمہ متعہ معروفہ كے جواز كے لیے نص صریح ہے تو یہ باطل اور لغو دعوٰی ہے كیونكہ یہ دعوٰی تو تب صحیح اور درست ہوسكتا ہے جب شیعہ حضرات یہ ثابت كر دكھائیں كہ لفظ استمتاع كا معنی صرف اور صرف متعہ معروفہ ہی ہے اس كے برعكس ہم اس لفظ كے قرآن پاك میں نفع اٹھانے كے مفہوم میں استعمال ہونے والے مقامات كی نشاندہی كرتے ہیں لہذا ملاحظہ فرمائیں
آیت نمبر 1
فَاسْتَمْتَعُوۡا بِخَلَاقِہِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمۡ بِخَلَاقِکُمْ
پ 10 ركوع 15 آیت 69


ترجمہ : انہوں نے اپنے حصوں سے نفع اٹھایا جیسا كہ تم نے اپنے اپنے حصوں سے نفع اٹھایا ۔

آیت نمبر 2

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوۡفِ

پ 2 آیت 241


ترجمہ : اور طلاق دی گئی عورتوں كے لیے بھی نیكی كے ساتھ نفع پہنچانا ہے

آیت نمبر 3
وَّمَتِّعُوۡہُنَّ ۚ عَلَی الْمُوۡسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ
پ 2 آیت 236


ترجمہ : ان كو نیكی كے طور پر كچھ نفع پہنچائو صاحب قدرت (مال دار) پر اس كی حیثیت اور غریب پر اس كی حیثیت كے مطابق لازم ہے ۔

آیت نمبر 4
قُلْ تَمَتَّعُوۡا فَاِنَّ مَصِیۡرَکُمْ اِلَی النَّارِ ﴿۳۰

پ 13 ركوع 17



ترجمہ : فرمادیجیے ! تم لوگ (چند روز) نفع اٹھالو ، پھر تمہارا انجام دوذخ كی آگ ہے ۔
تم كہہ دو كہ (چند روز) نفع اٹھالو كہ تمہاری بازگشت تو یقینا جہنم كی طرف ہے ۔
( ترجمہ مقبول شیعہ)

ان چار مقامات پر لفظ متاع اور اس كی فروعات كا ذكر موجود ہے لیكن آپ نے ملاحظہ فرمالیا كہ كسی ایك جگہ بھی اس لفظ كو متعہ معروفہ كے معنی میں استعمال نہیں كیا گیا ہے بلكہ ہر جگہ ہی نفع اٹھانا ہی مفہوم ہے ہم نے ان آیات كا یہ ترجمہ از خود نہیں كیا بلكہ خود شیعی مترجم مقبول كے ترجمۃ القرآن سے لیا ہے لہذا معلوم ہوا كہ جب ان كے گھر كا ایك بھیدی لفظ متاع كے متعلق ترجمہ نفع اٹھانا كرتا ہے تو پھر ان كے فریب كا لنكا ضرور ڈھے پڑے گا اور ان كو یہ ماننا پڑے گا كہ لفظ استمتاع اور متاع كا معنی صرف متعہ معروفہ ہی نہیں بلكہ اور بھی معنی ہیں اس لیے اس لفظ كا انحصار صرف متعپ معروفہ میں ماننا سراسر جہالت اور لاعلمی ہے ۔
دعوٰی كا دوسرا حصہ لفظ اجورھن ہے جس كے متعلق ان كا یہ خیال ہے كہ اجرت كا اطلاق متعہ معروفہ كے مقابلہ میں ہی آسكتا ہے نكاح دائمی كے لیے حق مہر كا استعمال ہوتا ہے اب ان كے اس دعوٰی كی طرف آئیے ہم پچھلے لفظ كی طرح خود قرآن پاك میں اس لفظ كا استعمال حق مہر كے لیے دكھاتے ہیں جو دائمی نكاح كے مقابلہ میں ہوتا ہے جس سے ان كی جہالت اور واضح ہوجائے گی ملاحظہ ہو

١۔
فَانۡکِحُوۡہُنَّ بِاِذْنِ اَہۡلِہِنَّ وَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ
پ 5 ركوع 1 آیت 25


ترجمہ
پس ان سے ان كے مالكوں كی اجازت سے نكاح كرو اور ان كے مہر نیكی كے ساتھ ان كو دے دو ۔

٢۔
وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ ؕ
پ 28 ركوع 8 آیت 10


ترجمہ
ہاں جو كچھ وہ خرچ كرچكے ہوں تم ان كو دے دو اور اس میں تم پر كوئی الزام نہیں كہ تم ان سے نكاح كرلو جب كہ تم ان كو مہر دے دو۔

٣۔
اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیۡۤ اٰتَیۡتَ اُجُوۡرَہُنَّ
پ 22 ركوع 3 آیت 50

ترجمہ
بے شك ہم نے حلال كیں تمہارے لیے وہ بیبیاں جن كے تم مہر دے چكے ہو ۔
ترجمہ مقبول احمد

ان تین آیات میں سے ہر ایك میں لفظ اجور حق مہر كے معنی میں استعمال ہوا ۔ جو نكاح دائمی كے مقابلہ میں ہوتا ہے اور اس كا معنی مہر بھی خود شیعہ مفسر نے كیا ہے جو كہ متعہ معروفہ میں ہوتا ہے جیسا كہ شیعہ حضرات كا دعوٰی ہے بلكہ حق مہر پر بھی اس كا اطلاق ہوتا ہے اس لیے اس لفظ كو بھی صرف اجرت معینہ میں محدود ماننا بھی جہالت كا بہترین اور كامل نمونہ ہے تو ان گزارشات سے آپ حضرات نے یہ جان لیا ہوگا كہ متعہ معروفہ كو آیت مذكور سے ثابت كرنے كے لیے شیعہ حضرات نے جن دو ستونوں پر اپنی عمارت متعہ كھڑی كی تھی وہ گر گئے تو اب ان كے متعہ معروفہ والے گھر كا قیام كب باقی رہ گیا ۔ یہ تھا ان كے استدلال كا انجام جو آپ نے ملاحظہ فرمالیا ۔

قرات ابی بن كعب رضی اللہ عنہ كا جائزہ

١۔قرات سبعہ متواترہ میں سے كسی ایك میں بھی حضرت ابی بن كعب رضی اللہ عنہ كی قرات كا ذكر نہیں ملتا اور الی اجل مسمی كے الفاظ وارد نہیں ہیں اور یہ بات بھی واضح ہے كہ قرات سبعہ كے سوا دوسری قرات شاذہ كہلاتی ہے لہذا ایك طرف قرات متواترہ صحیحہ ہو اور دوسری طرف قرات شاذہ ہو تو ترجیح اور قابل عمل قرات متواترہ ہوتی ہے ، نہ كہ قرات شاذہ ۔ اور اگر برسبیل تنزل اس قرات شاذہ كو مان لیا جائے تو الی اجل مسمی كو اجورھن كے متعلق كرنا جائز ہے اور قریب ہونے كی وجہ سے متعہ معروفہ كو ثابت كرنا باطل ہے كیونكہ تركیب كے اعتبار سے الی اجل مسمی كو اجورھن كے متعلق كرنا جائز ہے اور قریب ہونے كی وجہ سے اس كے متعلق كرنا فما استمتعم كے متعلق كرنے كی نسبت بہتر ہے اور اسی تركیب كو حجۃ الاسلام ابوبكر احمد بن علی الرازی الجصاص نے تفسیر احكام القرآن میں ذكر فرمایا
ولوکان فیہ ذکر الاجل لما دل ایضا علی متعۃ النساء لان اجل یجوز ان یکون داخلا علی المھر الی اجل مسمی فاٰتوھن مھورھن عند حلول الاجل ۔
(تفسیراحکام القرآن جلد دوم ص 148 باب المتعہ پارہ پنجم مطبوعہ بیروت )

ترجمہ
اور اگر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ الفاظ مان بھی لیے جائیں تو پھر بھی عورتوں سے متعہ معروفہ کا ثبوت حاصل نہیں*ہوتا کیونکہ الی اجل مسمی کو مہر اجورھن پر داخل کرنا جائز ہے لہذا اس تقدیر پر مفہوم یہ ہوگا کہ جن عورتوں کے ساتھ ایک مقررہ وقت تک مہر اداکرنے کا وعدہ کرکے ہم بستری کی ، تو ان کو ان کے حق مہر مدت مقررہ کے گزرنے پر ادا کرو ۔
2- جب ہم یہ ثابت کرچکے ہیں کہ احادیث صحیحہ کی روشنی میں*عقد متعہ کو حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے تیسرے روز بحکم خدا قیامت تک کے لیے حرام قرار دے دیا تھا ، تو ان احادیث*صحیحہ کے مقابلے میں*ایک قرآت شاذہ کا کیا وزن رہ جاتا ہے ؟ لہذا یہ قرآت شاذہ ناقابل عمل ہوئی ۔
3۔ارشاد خداوندی ہے
وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾
پارہ 18 سورہ المومنون رکوع ا آیت 5 تا 7
ترجمہ
اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں سوائے اپنی ازواج کے یا اپنے ہاتھ کے مال (لونڈیوں) کے اس صورت میں وہ قابل ملامت نہیں ہیں ، پس جو اس کے سوا خواہش کرے ، پس وہی زیادتی کرنے والے ہیں (مقبول)

اس نص قطعی اور حکم صریحی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اللہ رب العزت نے حلت کو دو اقسام کی عورتوں میں*منحصر فرمادیا ہے ۔ اول قسم ان عورتوں کی ہے جن کو تم اپنی زوجیت میں*لے لو -(یعنی منکوحہ بیویاں ) اور دوسری قسم ان عورتوں کی ہے جو تمہاری مملوکہ لونڈیاں ہیں ، ان دو اقسام کی عورتوں کے سوا کسی تیسری قسم کی عورت سے وطی کرنا جائز نہیں اور اگر کسی نے اس پابندی کو ٹھکراتے ہوئے تجاوز کیا تو ایسا شخص زیادتی کرنے والوں میں*شامل ہوگا یعنی وہ زانی ، بدکار اور اللہ کا نافرمان ہوگا اس کی تائید شیعہ مفسرین سے بھی لیجیے ۔
منہج الصادقین میں ہے

(فمن ابتغٰی) پس ہر کہ جو ید برائے مباشرت (ورآء ذالک)غیر از زنان و کنیزان خود (فاؤلئک) پس آنگر وہ ( ھم العادون) ایشا نند درگزر ندگان از حلال بحرام -
(تفسیر منہاج الصادقین جلد ششم ص 194 تا 195 مطبوعہ تہران )

ترجمہ : پس جو شخص اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے سوا کسی عورت سے ہم بستری کی خواہش کرے ۔ اور اپنی نفسانی خوہشات کو پورا کرنے کے لیے طلب کرے تو ایسے لوگ حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں یعنی زانی اور بدکار ہیں اور ان کا یہ فعل شرعا کسی صورت میں جائز نہیں ہوگا ۔

مجمع البیان میں ہے
(فمن ابتغٰی ورآء ذالک)ای طلب سوی الازواج والولائد المملوکۃ (فاؤلئک ھم العادون) ای الظالمون المتجاوزون الی مالا یحل لھم -(تفسیر مجمع البیان جلد ہفتم ص 99 مطبوعہ تہران طبع جدید )

ترجمہ : سو جس نے اپنی منکوحہ بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے سوا کسی اور عورت کو خوہشات نفسانیہ کی برآری کے لیے طلب کیا -تو ایسا کرنے والے ظالم ہیں اور اس فعل کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کے لیے حلال نہیں کیا گیا - (یعنی حرام فعل کے مرتکب ہوئے ہیں )

حاصل کلام :
یہ ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرآت پر اس کے شاذہ ہوتے ہوئے عمل کرنا کب جائز ہے جب کہ اس کے مقابلہ میں قرآن حکیم اور احادیث صحیحہ موجود ہیں ، لہذا اس شاذہ روایت سے متعہ معروفہ کو جائز اور حلال قرار دینا ہرگز درست اور قابل تسلیم نہیں ، اس کے علاوہ اگر فقہی اصل کو بھی دیکھیں تو تب بھی یہ حلت ناقابل قبول ہے ، کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی جگہ حلت اور حرمت کے دلائل مساوی ہیں*تو دلائل حرمت کو فوقیت اور اولیت ہوتی ہے یہاں دونوں دلائل کی مساوات ہی کب ہے ، بلکہ یہاں تو دلائل محرمہ جس قدر مضبوط اور قوی ہیں اسی قدر دلائل مبیحہ کمزور اور لایعنی ہیں ایک طرف نصوص صریحہ اور احادیث صحیحہ متعہ معروفہ کی حرمت ثابت کررہی ہیں اور دوسری طرف ایک روایت و قرآت شاذہ اس کو جائز اور حلال قرار دے رہی ہیں تو ایسے میں کون بےوقوف یہ کہے گا کہ دلائل حلت قابل عمل ہیں اور دلائل حرمت مرجوع اور ناقابل عمل ہیں ؟
فاعتبروا یا اولی الابصار
شیرمحمد is offline   Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to شیرمحمد For This Useful Post:
Old 12-22-2009, 06:51 PM   #2
شیرمحمد
کارکن
 
شیرمحمد's Avatar
 
Join Date: Mar 2007
Posts: 558
Thanks: 61
Thanked 1,221 Times in 325 Posts
Default

ایک اعتراض



وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾

اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾

فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾


پارہ 18 سورہ المومنون آیت 5 تا 7

ان آیات میں جن دو قسم کی عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی نے حلت کو منحصر فرمایا ہے ان میں*پہلی قسم کے اندر وہ عورتیں بھی داخل ہیں ، جو عقد متعہ کے ذریعہ سے ہوں ، کیونکہ یہ متمتعہ عورتیں بھی وقت مخصوص کے لیے ازواج ہیں ، لہذا ان کو ( وراءذالک)میں داخل کرکے ان سے خواہش نفسانی کی برآری کو حرام قرار دینا قرآن پاک پر زیادتی ہے ، اور متعہ کرنے والے مرد اور متعہ کرنے والی عورت کو زانی اور زانیہ یاحرام کار کہنا بالکل ناجائز ہے اور یہ زیادتی بلاجواز ہے -

جواب اول
عورت متمتعہ کو ازواج میں داخل کرنا قرانی آیات کے مفہوم کے خلاف بھی ہے اور فقہ جعفریہ (شیعہ) سے بھی لاعلمی اور جہالت کا ثبوت ہے کیونکہ عورت متمتعہ کے لیے فقہ جعفریہ میں واضح الفاظ کے ساتھ یہ موجود ہے کہ عقد کے لیے نہ گواہی کی ضرورت ہے اور نہ لفظ نکاح کی ، اسی طرح ایسی عورت کو طلاق دینے کی قطعا ضرورت نہیں ، بلکہ وہ مدت مقررہ کے گزرنے پر خود بخود آزاد اور خودمختار ہوجاتی ہے اور نہ ہی اسے آگے عقد کرنے کے لیے کسی عدت کی ضرورت ہے جبکہ فقہ جعفریہ میں ازواج کے لیے گواہی ،لفظ نکاح ، طلاق اور عدت وغیرہ کی پابندی ہے ، لہذا ازواج میں عورت متمتعہ کسی طور پر داخل نہیں ہے -

جواب دوم
اگر قائل کے مطابق عورت متمتعہ ازواج میں داخل ہوتی ، تو ازواج کی طرح اس کی تعداد پر بھی پابندی ہوئی اور چار سے زائد عورتوں سے بیک وقت ایک آدمی سو عورتوں یا اس سے بھی زیادہ کو عقد متعہ میں اپنے پاس رکھ سکتا ہے حالانکہ ازواج کے بارے میں مثنٰی وثلٰث وربٰع کی نص صریح سے چار تک حد بندی ہے -

جواب سوم
متعہ کرنے والے مرد اگر شادی شدہ نہیں ، تو وہ اگر متعہ کرنے کے بعد کسی وقت زنا کا مرتکب ہوجائے تو ثبوت زنا کے بعد اس پر حد رجم جارہ نہیں*ہوگی بلکہ اس کو کنوارے کی سزا یعنی کوڑے لگائے جائیں گے کیونکہ شریعت اسے شادی شدہ تسلیم نہیں کرتی لہذا وہ محصن نہ ہوا ، اگر متعہ کرانے والی عورت ازواج میں داخل ہوتی ہے تو اس سے ہمبستری کرنے والا لازما شادی شدہ تسلیم ہوتا اور محض شمار کیا جاتا اور اس پر جرم میں رجم کی سزا نہیں دی گئی ۔
حوالہ ملاحظہ ہو
فاجلدوا کل واحد منھما مائۃ جلدۃ یعنی اذا کانا حرین بالغین بکرین غیر محصنین فاما اذا کان محصنین او کانا احد ھما محصنا کان علیہ الرجم بلاخلاف ۔ والاحصان ھو ان یکون لہ فرج یغدو الیہ ویروح علی وجہ الدوام ۔
(تفسیر مجمع البیان جلد ہفتم ص 124 مطبوعہ تہران طبع جدید )

ترجمہ :
(زانی اور زانیہ ) دونوں میں*سے ہر ایک کو سو سو کوڑے لگائے جائیں ، جبکہ دونوں آزاد، بالغ کنوارے اور غیر محصن ہوں لیکن اگر وہ دونوں یا ان میں*سے کوئی ایک محصن ہو تو اس پر حد رجم ہے جس میں کوئی خلاف نہیں اور احصان یہ ہے کہ کسی کے ہاں فرج (عورت کی شرمگاہ) بطور نکاح ہو اور وہ دائمی طور پر اسے جب چاہے صبح و شام مباشرت کے طور پر استعمال کرسکے ۔
شیرمحمد is offline   Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to شیرمحمد For This Useful Post:
Old 12-22-2009, 11:49 PM   #3
طلب گار دعا
رکن
 
طلب گار دعا's Avatar
 
Join Date: Nov 2006
Posts: 4,323
Thanks: 3,982
Thanked 4,061 Times in 888 Posts

Awards Showcase
3000 پیغامات 2000 پیغامات 1000 پیغامات 500 پیغامات 
Total Awards: 4

Default

جزاک اللہ خیر
__________________
امتحا ن کے کہا ں قا بل ہوں میں پیا رے ا للہ
بے سبب بخش دے مولا تیرا کیا جا تا ہے
دعا گو و طلب گاردعا
طلب گار دعا is offline   Reply With Quote
Reply

Tags
اول, حضرات, حلت, دلیل, شیعہ, متعہ, پر, کی

Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
شجرہ علّیہ حضرات عالیہ قادریہ برکاتیہ کنزالایمان حدائق بخشش 1 02-17-2010 12:00 PM
حقیقت متعہ كتب اہلسنت سے شیرمحمد ردّ شیعہ 3 12-30-2009 01:41 AM
كتب شیعہ كے آئینہ میں تعارف متعہ شیرمحمد ردّ شیعہ 2 12-26-2009 11:16 PM
تمام حضرات کو عید الاضحی کی مبارک ہو قادری ذوالحج 9 11-28-2009 03:41 PM
عرفانِ ربّانی کی ناطق دلیل خلیل احمدرانا احمد سعید کاظمی 5 05-20-2007 01:23 AM


All times are GMT +5. The time now is 01:20 AM.


Copyright © 1997 - 2010 by NooreMadinah Network http://www.NooreMadinah.net http://www.RazaEMustafa.net http://www.NaatRang.net