Go Back   فیض رضا - FaizeRaza > Islamic Personalities > Ulema Kiraam > Imam Azam Abu Hanifa


Some Details: Posted by خادم اہلسنت on 12-22-2009 (07:59 PM), last reply was on 06-07-2010 (12:58 AM). This thread has received 1 replies and been viewed 158 times.

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 12-22-2009, 07:59 PM   #1
خادم اہلسنت
عبدالمصطفی
کارکن
 
Join Date: Feb 2009
Posts: 910
Thanks: 399
Thanked 1,740 Times in 472 Posts

Awards Showcase
500 پیغامات 
Total Awards: 1

Default امامِ اعظم کا والدین سے حسنِ سلوک

والدین سے حسنِ سلوک:


امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کے والد گرامی آپکے بچپن ہی میں وفات پا گئے تھے جبکہ آپکی والدہ ایک مدت تک زندہ رہیں ۔ آپ اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتے اور انکی خوب خدمت کرتے ۔ آپکی والدہ شکی مزاج تھیں اور عام عورتوں کی طرح انہیں بھی واعظوں اور قصہ گوئی کرنے والے خطیبوں سے عقیدت تھی۔
کوفہ کے مشہور واعظ عمرو بن ذر اور قاضی زرعہ پر انہیں زیادہ یقین تھا اسلیے کوئی مسئلہ پوچھنا ہوتا تو امام اعظم رحمہ اللہ کو حکم دیتیں کہ عمرو بن ذر سے پوچھ آؤ۔ آپ اپنی والدہ ماجدہ کے ارشاد کی تعمیل کے لیے انکے پاس جاتے ۔
وہ بیچارے سراپا عذر بن کر عرض کرتے ، حضور! آپ کے سامنے میں کیسے زبان کھول سکتا ہوں ۔ اور اکثر ایسا ہوتا کہ عمرو کو کوئی مسئلہ کا جواب نہ آتا تو امام اعظم رحمہ اللہ سے درخواست کرتے ، ’’ آپ مجھ کو جواب بتا دیں تاکہ میں اسی کو آپ کے سامنے دہرا دوں ‘‘۔ آپ جواب دیتے تو وہ اسے آپکے سامنے دہرادیتے اور پھر وہی جواب امام اعظم رحمہ اللہ اپنی والدہ کو آ کر بتا دیتے ۔ (الخیرات الحسان:۱۹۶)

آپکی والدہ کبھی کبھی اصرار کرتیں کہ میں خود چل کر پوچھوں گی چنانچہ وہ خچر پر سوار ہوتیں اور امام اعظم رضی اللہ عنہ پیدل ساتھ جاتے حالانکہ آپ کا گھر وہاں سے کئی میل دور تھا۔ وہ خود مسئلہ بیان کرتیں اور اپنے کانوں سے جواب سن لیتیں تب اطمینان ہوتا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ایک دن میں نے دیکھا کہ امامِ اعظم رحمہ اللہ اپنی والدہ کو خچر پر بٹھائے عمرو بن ذر کے پاس جا رہے تھے تاکہ آپ سے کسی مسئلہ پر گفتگو کرسکیں ۔ آپ اپنی والدہ کی خواہش پر لے جا رہے تھے ورنہ آپکو معلوم تھا کہ عمرو بن ذر کا کیا مقام ہے ۔ یہ سب اپنی والدہ کی خواہش کے احترام کے پیشِ نظر تھا۔ (مناقب للموفق : ۲۹۳)
ایک بار آپکی والدہ نے آپ سے فتویٰ پوچھا۔ آپ نے فتویٰ تحریر فرمادیا۔ وہ بولیں ، میں تو وہی فتویٰ قبول کروں گی جو زرعہ لکھیں گے ۔ چنانچہ آپ اپنی والدہ کی دلجوئی کے لیے زرعہ کے پاس گئے اور فرمایا، میری والدہ آپ سے یہ فتویٰ پوچھتی ہیں ۔تو انہوں نے کہا، آپ زیادہ بڑ ے فقیہ ہیں آپ فتویٰ دیجئے ۔آپ نے فرمایا، میں نے یہ فتویٰ دیا ہے لیکن وہ آپ سے تصدیق چاہتی ہیں تو زرعہ نے لکھ کر کہا، فتویٰ وہی صحیح ہے جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے دیا تھا۔ اس تحریر سے وہ مطمئن ہو گئیں ۔(ایضاً)
جب امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کو عباسی خلیفہ نے چیف جسٹس مقرر کرنا چاہا تو آپ نے انکار کیا۔ اس پر آپ کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ جلاد روزانہ جیل سے نکال کر آپکو لوگوں کے سامنے کوڑ ے مارتے اور کہتے کہ چیف جسٹس کا منصب قبول کر لیں مگر آپ انکار کرتے ۔ایک دن کوڑ ے کھاتے کھاتے روپڑ ے ۔وجہ پوچھی گئی تو فرمایا، میں اپنی تکلیف کی وجہ سے نہیں رویامجھے اپنی والدہ یاد آ گئیں کہ وہ میری جدائی میں کس قدر مغموم ہونگی۔ دوسری روایت میں ہے کہ جب میری والدہ میرے خون آلود چہرے کو دیکھیں گی تو انہیں کتنا دکھ ہو گا۔(ایضاً)
امامِ اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، جب مجھے کوڑ ے لگائے جاتے تھے تو میری والدہ مجھے کہا کرتی تھیں ، ابو حنیفہ! تجھے علم نے اس قوتِ برداشت تک پہنچا دیا ہے ۔ تم اس علم کو چھوڑو اور عام دنیا والوں کی طرح کام کرتے جاؤ۔ میں نے کہا، امی جان! اگر میں علم چھوڑ دوں تو اﷲتعالیٰ کی رضا کس طرح حاصل کروں گا‘‘۔
آپ فرماتے تھے ، میں اپنے والدین کے ایصالِ ثواب کے لیے ہر جمعہ کے دن بیس درہم خیرات کرتا ہوں ، اور اس بات کی میں نے منت مانی ہوئی ہے ۔ دس درہم والد اور دس درہم والدہ کے لیے خیرات کرتا ہوں ۔ ان مقررہ درہموں کے علاوہ آپ اپنے والدین کے لیے فقراء و مساکین میں اور بھی چیزیں صدقہ کرتے تھے ۔(ایضاً : ۲۹۴)
خادم اہلسنت is offline   Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to خادم اہلسنت For This Useful Post:
Old 06-07-2010, 12:58 AM   #2
بینش
مشتاق
 
بینش's Avatar
 
Join Date: Nov 2006
Posts: 1,258
Thanks: 1,379
Thanked 1,586 Times in 250 Posts

Awards Showcase
500 پیغامات 
Total Awards: 1

Default

ماشاء اللہ جزاک اللہ خیر
__________________
فیض رضا جاری رہے گا
دشمنوکےدل پہ بھاری رہےگا
فیض رضا جاری رہے گا
دشمنوکےدل پہ بھاری رہےگا
بینش is offline   Reply With Quote
Reply

Tags
اعظم, امامِ, حسنِ, سلوک, سے, والدین, کا

Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
اولاد کی پرورش میں والدین کا کردار مجید امجد بزم رجال 8 02-16-2010 02:00 AM
امامِ اعظم کا پڑ وسیوں سے حسنِ سلوک خادم اہلسنت امام اعظم ابوحنیفہ 1 02-14-2010 11:35 PM
امامِ اہلِ سنت کون ہے؟ میرے شہا تم ہو قادری حمد نعت منقبت 7 02-08-2010 06:20 PM
امامِ اعظم کا اساتذہ سی حسن سلوک خادم اہلسنت امام اعظم ابوحنیفہ 1 01-17-2010 02:07 PM
قیدیوں کے ساتھ سلوک فیض رضا سیرت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم 0 04-22-2007 01:25 AM


All times are GMT +5. The time now is 01:14 AM.


Copyright © 1997 - 2010 by NooreMadinah Network http://www.NooreMadinah.net http://www.RazaEMustafa.net http://www.NaatRang.net