پڑ وسیوں سے حسنِ سلوک:
سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کے پڑ وس میں ایک موچی رہتا تھا، جو دن میں محنت مزدوری کرتا اور شام کو بازار سے گوشت اور شراب لیکر آتا۔ گوشت بھون کر کھاتا اور شراب پیتا۔ جب شراب کے نشے میں دھت ہوجاتا تو خوب غل مچاتا اور بلند آواز سے یہ شعر پڑ ھتا رہتا، ترجمہ: ’’لوگوں نے مجھ کو ضائع کر دیا اور کتنے بڑ ے باکمال نوجوان کو کھو دیا جو لڑ ائی اور صف بندی کے دن کام آتا‘‘۔
امام صاحب روزانہ ا سکی آواز سنا کرتے اور خود تمام رات عبادت میں مشغول رہتے ۔ ایک رات آپ نے ا سکی آواز نہ سنی تو صبح لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا۔ بتایا گیا کہ اسے کل رات سپاھیوں نے پکڑ لیا ہے اور وہ قید میں ہے ۔ امام صاحب نمازِ فجر کے بعد گورنر کے پا س پہنچے ۔ گورنر نے بڑے ادب سے عرض کی، حضور آپ یہاں کیسے تشریف لائے ؟ آپ نے فرمایا، میرے پڑ وسی کو کل رات آپ کے سپاھیوں نے پکڑ لیا ہے ، اسے چھوڑ دیجئے ۔ گورنر نے حکم دیا، وہ قیدی اور اسکے ساتھ کے تمام قیدی چھوڑ دیے جائیں ۔ پھر قیدیوں سے کہا، تم سب کو امام ابو حنیفہ کی وجہ سے رہائی مل رہی ہے ۔
امامِ اعظم رحمہ اللہ نے اپنے پڑ وسی نوجوان سے فرمایا، ’’ہم نے تم کو ضائع تو نہیں کیا‘‘۔ آپ کا اشارہ ا سکے شعر کی طرف تھا، اس نے عرض کی، نہیں بلکہ آپ نے میری حفاظت فرمائی اور میری سفارش کی، اﷲ تعالیٰ آپ کو جزا دے ، آپ نے ہمسایہ کے حق کی رعایت فرمائی، پھر اس نے توبہ کر لی اور نیک بن گیا۔(تبییض الصحیفہ : ۳۹)
امامِ اعظم رضی اللہ عنہ اپنے پڑ وسیوں سے حسنِ سلوک اور رواداری میں بے مثال تھے ۔ آپ کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ آپ سے سب لوگوں کو نفع ہو۔ آپ ایک بار کوفہ کے گورنر کے پاس تشریف لے گئے وہاں دیکھا کہ ایک شخص کو گورنر قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ اس شخص نے دیکھا کہ گورنر نے امام صاحب رحمہ اللہ کی بڑ ی عزت کی ہے تو کہنے لگا، یہ صاحب مجھے اچھی طرح جانتے ہیں ۔ گورنر نے پوچھا، کیا آ پ ا س شخص کو جانتے ہیں ؟ اگرچہ آپ اسے نہیں جانتے تھے مگر آپ نے فرمایا، یہ تو وہی ہے جو اذان دیتے ہوئے آواز کھینچ کر کہتا ہے لا الہ الاﷲ۔ اس نے عرض کی، جی میں وہی ہوں ۔ آپ نے فرمایا، اچھا مجھے اذان تو سناؤ تاکہ میں تمہاری آواز پہچان لوں ۔ اس نے پوری اذان سنائی ۔تو امامِ اعظم رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ اچھا آدمی ہے اسے چھوڑ دو۔ گورنر نے اسے رہا کر دیا۔
اس واقعہ سے امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی بے پناہ ذہانت واضح ہوتی ہے ۔ آپ نے اذان اس لیے سنی تا کہ وہ اﷲ تعالیٰ اور ا سکے رسول

کی شہادت کی گواہی دے ۔ اور یوں آپ نے اس شہادت کی برکت اور اپنی ذہانت سے ایک بے گناہ کو قتل سے بچالیا۔
پڑ وسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے متعلق علامہ موفق رحمہ اللہ نے چند اشعار تحریر کیے ہیں جن میں سے دواشعار کا ترجمہ یہ ہے ، ’’امامِ اعظم رحمہ اللہ کا ہمسایہ ہمیشہ خوشحال رہتا ہے کیونکہ آپ ہمسائے کے حقوق اچھی طرح ادا کرتے ہیں ۔ آپ اپنے احسان وکرم کے لیے کسی خاص ہمسائے سے ہی حسنِ سلوک نہیں کرتے تھے بلکہ ہر ہمسایہ آپکے سایۂ کرم میں رہتا تھا‘‘۔(مناقب : ۲۴۴)