![]() |
|
|||||||
| Some Details: Posted by خادم اہلسنت on 12-22-2009 (08:03 PM), last reply was on 02-14-2010 (11:35 PM). This thread has received 1 replies and been viewed 223 times. |
![]() |
|
|
Thread Tools | Display Modes |
|
|
#1 |
|
عبدالمصطفی
کارکن
Join Date: Feb 2009
Posts: 910
Thanks: 399
Thanked 1,740 Times in 472 Posts
|
پڑ وسیوں سے حسنِ سلوک:
سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کے پڑ وس میں ایک موچی رہتا تھا، جو دن میں محنت مزدوری کرتا اور شام کو بازار سے گوشت اور شراب لیکر آتا۔ گوشت بھون کر کھاتا اور شراب پیتا۔ جب شراب کے نشے میں دھت ہوجاتا تو خوب غل مچاتا اور بلند آواز سے یہ شعر پڑ ھتا رہتا، ترجمہ: ’’لوگوں نے مجھ کو ضائع کر دیا اور کتنے بڑ ے باکمال نوجوان کو کھو دیا جو لڑ ائی اور صف بندی کے دن کام آتا‘‘۔ امام صاحب روزانہ ا سکی آواز سنا کرتے اور خود تمام رات عبادت میں مشغول رہتے ۔ ایک رات آپ نے ا سکی آواز نہ سنی تو صبح لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا۔ بتایا گیا کہ اسے کل رات سپاھیوں نے پکڑ لیا ہے اور وہ قید میں ہے ۔ امام صاحب نمازِ فجر کے بعد گورنر کے پا س پہنچے ۔ گورنر نے بڑے ادب سے عرض کی، حضور آپ یہاں کیسے تشریف لائے ؟ آپ نے فرمایا، میرے پڑ وسی کو کل رات آپ کے سپاھیوں نے پکڑ لیا ہے ، اسے چھوڑ دیجئے ۔ گورنر نے حکم دیا، وہ قیدی اور اسکے ساتھ کے تمام قیدی چھوڑ دیے جائیں ۔ پھر قیدیوں سے کہا، تم سب کو امام ابو حنیفہ کی وجہ سے رہائی مل رہی ہے ۔ امامِ اعظم رحمہ اللہ نے اپنے پڑ وسی نوجوان سے فرمایا، ’’ہم نے تم کو ضائع تو نہیں کیا‘‘۔ آپ کا اشارہ ا سکے شعر کی طرف تھا، اس نے عرض کی، نہیں بلکہ آپ نے میری حفاظت فرمائی اور میری سفارش کی، اﷲ تعالیٰ آپ کو جزا دے ، آپ نے ہمسایہ کے حق کی رعایت فرمائی، پھر اس نے توبہ کر لی اور نیک بن گیا۔(تبییض الصحیفہ : ۳۹) امامِ اعظم رضی اللہ عنہ اپنے پڑ وسیوں سے حسنِ سلوک اور رواداری میں بے مثال تھے ۔ آپ کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ آپ سے سب لوگوں کو نفع ہو۔ آپ ایک بار کوفہ کے گورنر کے پاس تشریف لے گئے وہاں دیکھا کہ ایک شخص کو گورنر قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ اس شخص نے دیکھا کہ گورنر نے امام صاحب رحمہ اللہ کی بڑ ی عزت کی ہے تو کہنے لگا، یہ صاحب مجھے اچھی طرح جانتے ہیں ۔ گورنر نے پوچھا، کیا آ پ ا س شخص کو جانتے ہیں ؟ اگرچہ آپ اسے نہیں جانتے تھے مگر آپ نے فرمایا، یہ تو وہی ہے جو اذان دیتے ہوئے آواز کھینچ کر کہتا ہے لا الہ الاﷲ۔ اس نے عرض کی، جی میں وہی ہوں ۔ آپ نے فرمایا، اچھا مجھے اذان تو سناؤ تاکہ میں تمہاری آواز پہچان لوں ۔ اس نے پوری اذان سنائی ۔تو امامِ اعظم رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ اچھا آدمی ہے اسے چھوڑ دو۔ گورنر نے اسے رہا کر دیا۔ اس واقعہ سے امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی بے پناہ ذہانت واضح ہوتی ہے ۔ آپ نے اذان اس لیے سنی تا کہ وہ اﷲ تعالیٰ اور ا سکے رسول کی شہادت کی گواہی دے ۔ اور یوں آپ نے اس شہادت کی برکت اور اپنی ذہانت سے ایک بے گناہ کو قتل سے بچالیا۔پڑ وسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے متعلق علامہ موفق رحمہ اللہ نے چند اشعار تحریر کیے ہیں جن میں سے دواشعار کا ترجمہ یہ ہے ، ’’امامِ اعظم رحمہ اللہ کا ہمسایہ ہمیشہ خوشحال رہتا ہے کیونکہ آپ ہمسائے کے حقوق اچھی طرح ادا کرتے ہیں ۔ آپ اپنے احسان وکرم کے لیے کسی خاص ہمسائے سے ہی حسنِ سلوک نہیں کرتے تھے بلکہ ہر ہمسایہ آپکے سایۂ کرم میں رہتا تھا‘‘۔(مناقب : ۲۴۴) |
|
|
|
|
|
#2 |
|
مشتاق
Join Date: Feb 2007
Posts: 1,391
Thanks: 1,287
Thanked 1,176 Times in 202 Posts
|
جزاک اللہ لالہ
__________________
مسلمان ہونا کوئی مشکل امر نہیں مگر مسلمان بن کر حدود شرع کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی گزارنا دشوار ہے اور صحیح معنوں میں مسلمان وہی ہے جو شرعی احکام و مسائل پر سختی سے کاربند ہو کر کتاب زندگی کی اوراق گردانی کرے۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| اعظم, امامِ, حسنِ, سلوک, سے, وسیوں, پڑ, کا |
| Thread Tools | |
| Display Modes | |
|
|
Similar Threads
|
||||
| Thread | Thread Starter | Forum | Replies | Last Post |
| امامِ اعظم کا والدین سے حسنِ سلوک | خادم اہلسنت | امام اعظم ابوحنیفہ | 1 | 06-07-2010 12:58 AM |
| امامِ اہلِ سنت کون ہے؟ میرے شہا تم ہو | قادری | حمد نعت منقبت | 7 | 02-08-2010 06:20 PM |
| امامِ اعظم کا اساتذہ سی حسن سلوک | خادم اہلسنت | امام اعظم ابوحنیفہ | 1 | 01-17-2010 02:07 PM |
| پڑوسیوں سے حسن سلوک کرنے کاحکم | شیرمحمد | متفرق | 1 | 09-28-2009 12:16 AM |
| قیدیوں کے ساتھ سلوک | فیض رضا | سیرت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم | 0 | 04-22-2007 01:25 AM |