![]() |
|
|||||||
| Some Details: Posted by مولوی جی on 12-23-2009 (02:12 AM), last reply was on 01-03-2010 (02:05 AM). This thread has received 2 replies and been viewed 283 times. |
![]() |
|
|
Thread Tools | Display Modes |
|
|
#1 |
|
امین
Join Date: Mar 2007
Posts: 174
Thanks: 235
Thanked 432 Times in 62 Posts
|
﴿اپنی بات)
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا مدیرِ اعلیٰ، صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبركاتہ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، طالبان کے ’’مجاہد‘‘ کے بھیس میں وجود میں آنے اور پھر افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے وقت سے ہی دیوبندی وہابی مکتبۂ فکر کے علما نے اُن کی غیر مشروط حمایت جاری رکھی، اُدھر طالبان نے بھی بغیر کسی تحفظ کے اپنی وابستگی دیوبندی مکتبۂ فکر سے ظاہر کی۔ اِس مکتبۂ فکر کے جیّد علما مثلاً مفتی تقی عثمانی، مفتی رفیع عثمانی، مفتی سمیع الحق، مفتی حنیف جالندھری، مفتی شامزئی، مفتی یوسف لدھیانوی، مفتی فضل الرحمٰن صاحبان وغیرہم نے طالبان اور ان کی حکومت کے حق میں فتوے جاری کیے جب طالبان افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے وہاں اُس وقت کی حکومت کے خلاف جو ایک اسلامی حکومت تھی، قتال کررہے تھے تو انہی مفتیانِ عظام نے طالبان کے حق میں فتویٰ دیتے ہوئے طالبان کے قتل و غارت گری اور خُودکُش حملوں کو جہاد قرار دیا تھا اور پاکستانی دیوبندی مدارس سے ’’طالبان مجاہدین‘‘ کی مدد کے لیے طلبا اور عوام الناس کو ترغیب دی جاتی تھی۔ تقریباً تمام دیوبندی مدارس گویا ’’مجاہدینِ افغانستان‘‘ کی لام بندی کے مراکز بنے ہوئے تھے۔ لیکن آج جب افغانستان اور پاکستان میں لاکھوں بے گناہ لوگ، مرد و عورت، بچے، طالبان کے عسکری شب خون اور خُودکُش حملوں میں شہید ہوچکے ہیں اور تمام عالمِ اسلام بل کہ پوری دنیا سے دیوبندیت اور وہابیت کو عالمی میڈیا پر مطعون کیا جارہا ہے کہ یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود تو فرزندانِ دیوبند کو ہوش آیا اور انہوں نے اِسی میں عافیت سمجھی کہ خود دیوبند کے مرکز سے طالبان کے خلاف ایک فتویٰ صادر کرواکے اپنے دامن سے خونِ ناحق کا دھبّا چھڑایا جائے۔ خواہ اِس کی زد میں اُن کی کتنی ہی عظیم شخصیات ہی کیوں نہ آتی ہوں۔ تفصیل کے لیے انگریزی اخبار ’’ڈان‘‘ مورخہ 20؍مئی2009ء صفحہ12 کی خبر: DEOBAND ULEMA TERM ALL TALIBAN ACTIONS UN-ISLAMIC دارالعلوم دیوبند (ہندوستان) کے علما نے طالبان کی تمام حرکتوں اور کاروائیوں کو غیر اسلامی (حرام) قرار دے دیا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ہندوستان کی کانگریسی حکومت کے پریشر کا نتیجہ ہو کیوں کہ کانگریس اور دیوبند کا ہمیشہ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اس میں مزید لکھا ہے کہ پاکستانی دیوبندی عالم، جمعیتِ علماے اسلام کے سربراہ جناب فضل الرحمٰن صاحب عالم نہیں ہیں اس لیے طالبان کے حق میں ان کا فتویٰ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ لیکن ان کے علاوہ درج بالا جن مذکورہ علما نے طالبان کے حق میں متعدد بار بلکہ تاحال فتوے دیے، اُن کا ذکر نہیں کیا گیا۔ شاید اِس لیے کہ اُس میں اُن کا اپنا پیٹ ننگا ہوتا ہے۔ چونکہ اُن کے بارے میں تو یہ کہہ نہیں سکتے کہ دیوبند مکتبۂ فکر کے یہ تمام مذکورہ علما غیرعالم یا غیر مفتی یا جاہل ہیں پھر تو علماے دیوبند کی اسناد سے اعتبار ہی ختم ہوجائے گا۔ خیر کوئی بات نہیں، اِس وقت علماے دیوبند پر بُرا وقت آن پڑا ہے لہٰذا بوکھلاہٹ اور پریشانی کے عالم میں ایسے فتوے صادر ہوتے ہیں اور یہ دیوبندی علما کی پرانی اور آبائی روش رہی ہے۔ اِس کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں لیکن خوفِ طوالت اِس کی اجازت نہیں دیتا۔ اِس موضوع پر مطالعہ کا شوق رَکھنے والے علامہ مشتاق احمد نظامی کی تصنیف ’’خون کے آنسو‘‘ اور علامہ ارشد القادری کی مصنّفہ کتاب ’’زلزلہ‘‘ ملاحظہ کرلیں۔ دیوبند کے مرکز سے جو فتوے صادر ہوتے ہیں، وہ سیاسی، ذاتی اور مسلکی مفاد کے تحت ہوتے ہیں۔ جب سیاسی مفاد بدل جاتے ہیں تو فتوے بھی بدل جاتے ہیں۔ افسوس کہ اِس کے باوجود ہمارے رہبر و رہنما ہونے کے مدعی بعض علما و مفتیان بل کہ بزعمِ خویش ’’مفتیِ اعظم‘‘ اِن سے اِتحاد و وداد کی باتیں ہی نہیں کرتے ہیں بل کہ ان کے پروردہ دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے اہلِ سنت والجماعت کے جیّد عالمِ دین کے مقتل پر کھڑے ہوکر قاتلانِ علماے اہلِ سنّت کی براءت کا اعلان کرتے ہیں۔ جب علامہ ڈاکٹر محمد اقباؔل نے مولوی حسین احمد کے بارے میں ایک قطعہ کہا تھا تو اُس وقت بھی حضراتِ دیوبند نے علامہ اقبال کو بزعمِ خویش جاہل قرار دے کر درج ذیل شعر کو لغو قرار دیا تھا عجم ہنوز نہ داند رموزِ دیں ورنہ زِ دیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی است پاکستان کے قیام کے بعد اب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ علامہ نے شیخِ دیوبند سے معافی مانگ لی تھی اور یہ وعدہ کیا تھا کہ اپنے دیوان سے اِس شعر کو نکال دیں گے لیکن جب اُن کا دیوان شائع ہوا تو ایک سازش کے تحت اِس قطعہ کو جس میں شیخِ دیوبند کی ہجو کی گئی ہے، شائع کردیا گیا۔ ان دیوبندی علما کی سرشت شروع ہی سے تضاد بیانی کی رہی ہے۔ جیسا مَفَاد دیکھا، اُسی کے مطابق فتویٰ دے دیا۔ اور ظاہر ہے کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے، ایسا کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ گذشتہ کل ہم نے کیا کہا تھا۔ اکبرؔ الٰہ آبادی نے ان دیوبندی علماکے انہی سیاسی فتووں کو دیکھ کر یہ فرمایا تھا یہ کانگریسی ملّا ، تم کو بتاؤں کیا ہیں؟ گاندھی کی پالیسی کے عربی میں ترجمہ ہیں جماعتِ اسلامی کے بانی مودودی صاحب جو عقائد کے اعتبار سے دیوبندی نظریات کے حامل ہیں، وہ علماے دیوبند کے مفاد پرستانہ فتووں اور تضاد بیانی کے شاکی ہیں۔ چنانچہ اُن کی رائے ملاحظہ فرمائیں: ’’ میں صاف کہتا ہوں کہ اِن (دیوبندی مولویوں) کے نزدیک کونسلوں اور اسمبلیوں کی شرکت ایک دن حرام اور دوسرے دن حلال کردینا ایک کھیل بن گیا ہے، اس لیے کہ ان کی تحلیل و تحریم حقیقتِ نفس الامری کے اِدراک پر تو مبنی نہیں، محض گاندھی جی کی جنبشِ لب کے ساتھ اِن کا فتویٰ گردش کرتا ہے۔‘‘ غالباً مودودی صاحب کے اِن ہی خیالات کی بِنا پر علماے دیوبند بشمول مفتی محمود صاحب (والد مولوی فضل الرحمن صاحب صدر جمعیت العلماے اسلام) نے مودودی صاحب اور جماعتِ اسلامی کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا تھا جو مکتبۂ حلمی عشقی، استنبول، ترکی سے بھی شائع ہوچکا ہے۔ مودودی صاحب کے خلاف اِس فتوے بازی کے سرغنہ مولوی ٹانڈوی (حسین احمد صاحب) تھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مولوی ٹانڈوی اور اکابرِ دیوبند کے معتقدین و متبعین نے جماعتِ مودودی سے تعلق رکھنے والے امام اور مدرّسین کو مسجد کی اِمامت اور مدارس کی مدرسی سے علیحدہ کردیا تھا۔ چنانچہ ماہنامہ ’’تجلّی‘‘ (مدیر، مولوی عامر عثمانی دیوبندی) نے علماے دیوبند بالخصوص مولوی ٹانڈوی کی مودودی صاحب کے خلاف فتویٴ کفر اور اس تحریک کو فتنہ انگیز، غیرذمہ دارانہ، خلافِ حقیقت اور افتراپروازی کا نتیجہ قرار دے کر اس کی مذمت کی (ملاحظہ ہو ماہنامہ ’’تجلّی‘‘، شمارہ فروری/ مارچ 1957ء، ص:63)۔ اسی دوران مودودی جماعت کے ایک فرد کی طرف سے (غالباً مولوی عامر عثمانی کی جانب سے) مولوی قاسم نانوتوی صاحب کی کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ کی ایک بدنام زمانہ متنازعہ عبارت کو استفتا کی صورت میں علماے دیوبند کے سامنے تحریری طور پر پیش کیا اور سوال اس طرح مرتب کیا کہ اُس سے یہ عندیہ ملتا تھا کہ یہ مودودی صاحب کی عبارت ہے۔ اُس پر مفتیِ دیوبند نے یہ فتویٰ دیا کہ ’’ایسے عقیدے والا کافر ہے جب تک تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح نہ کرے، اُس سے قطع تعلق رکھیں۔‘‘ گویا مفتی صاحب نے انجانے میں خود اپنے مربی جن کو یہ بانیِ دیوبند کہتے ہیں یعنی مولوی قاسم نانوتوی کو کافر قرار دے دیا۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے بعد میں اِس فتوے کی پوری تفصیل مولوی عامر عثمانی نے اپنے ماہنامہ ’’تجلّی‘‘، شمارہ اپریل 1956ء میں شائع کردی۔ اُس کے بعد ماہنامہ ’’دعوت‘‘ دہلی اور بعض دیگر اخبارات میں بھی شائع ہوئی۔ چنانچہ اُس وقت کے مہتمم دارالعلوم (قاری طیب صاحب) کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ یہ فتویٰ اُن ہی کے مفتی کا ہے مگر دھوکا دے کر لیا گیا ہے۔ اگر استفتا کرنے والا بتادیتا کہ یہ عبارت تحذیر الناس سے منقول ہے تو جواب دوسرا ہوتا۔ اِس دو رُخی پر ماہنامہ ’’تجلّی‘‘، فروری/ مارچ 1957ء، ص:15 کا تبصرہ ملاحظہ ہو: ’’اب ہم آپ کو بتادیں کہ ماہنامہ دارالعلوم کے قلم کاروں کو اگر جنید و غزالی یا امام ابوحنیفہ کی بھی کسی عبارت کے متعلق غلطی سے یہ یقین ہوجائے کہ مولانا مودودی کی ہے تو اُس کے مفہوم اور تعبیرات کو وہ الحاد و زندقہ اور خروج و اعتزال سے ملانے کی سعی کریں گے اور خوش ہوں گے کہ قوم کی بڑی خدمت انجام دی ہے۔‘‘ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند ایک ایسا حمام ہے جس میں سب ننگے ہیں۔ یہاں فتوے کا معیار احقاقِ حق نہیں بلکہ ذاتی مفاد اور سیاسی و مسلکی عنادہے۔ ایک عبارت یا قول اگر اُن کے سیاسی حریف یا مسلکی مخالف سے منسوب ہو تو بِلا سوچے سمجھے نہایت عجلت کے ساتھ قلم برداشتہ اُس کو کفریہ یا شرکیہ ثابت کرنے کی سعیِ لاحاصل کریں گے اور اگر بعینہٖ وہی عبارت و قول اُن کے اَپنے اکابرین سے منسوب ہو تو اُس کو عینِ اسلام ثابت کرنے کے لیے زمین و آسمان کے قلابے مِلادیں گے۔ حد تو یہ ہے کہ رشوت لے کر یہ خود اپنے صادر شدہ فتوے بدل دیتے ہیں۔ قارئینِ کرام! آپ کو یاد ہوگا کہ تقریباً دو سال قبل دارالعلوم دیوبند کے ایک مفتی صاحب نے کریڈٹ کارڈ اور طلاق سے متعلق ایک فتوے کو رشوت لے کر بدل دیا تھا۔ اُس کی تفصیل برصغیر پاک و ہند کے نہ صرف تمام بڑے اخبارات میں آئی تھی (راقم نے خود انگریزی روزنامہ ’’ڈان‘‘ میں یہ خبر پڑھی تھی) بلکہ الیکٹرونک میڈیا نے باقاعدہ ٹیپ شدہ ریکارڈ دکھایا تھا۔ خود فاضل دیوبند مولوی سعید احمد اکبر آبادی بھی علماے دیوبند کی بعض تحریرات میں تعارض و تناقص کے بارے میں حیران و ششدر نظر آتے ہیں (ملاحظہ ہوں ماہنامہ ’’برہان‘‘ 1952ھ کے فروری/ مارچ کے شمارے)۔ فاضل اکبر آبادی کی اِس حیرانی و پریشانی پر حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمۃنے بڑا خوب صورت تبصرہ فرمایا ہے جو ہم قارئینِ کرام کی تفننِ طبع کے لیے اِنہی کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں: ’’فاضل اکبر آبادی ایک ہی تعارض و تناقص میں حیران و ششدر ہیں حالانکہ علماے دیوبند کی عبارات میں تناقص و تعارض کی حیثیت سلسلۂ غیر متناہی بمعنی ’’لاتقف إلی حدٍ‘‘ کی ہوتی جارہی ہے جو تسلسل منطقیوں کی نظر میں محال تھا وہ اب ممکن الوقوع ہوتا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ وہابیوں اور دیوبندیوں کی نظر میں ’’مولانا‘‘ اسماعیل‘‘، ’’مولانا‘‘ گنگوہی، ’’مولانا‘‘ تھانوی کی حیثیت ایک معتبر ننائی کی ہے، جیسا کہ ایک واقعہ مشہور ہے: کسی شہر میں کوئی حجام پہنچا ملاقات حجمان سے کرکے بولا کہ بی بی تمہاری ہوئیں آج بیوہ میاں تم کو اِس غم میں ماتم ہے زیبا سنا جب اُنہوں نے بہت روئے پیٹے کہ افسوس بیوی ہوئی میری بیوہ تو احباب نے اُن کو آکر بتایا کہ بیوہ ہوئی کیسے تم تو ہو زندہ لگے کہنے قاصد بھی تو معتبر ہے پھر اُس کو میں کس طرح سمجھوں گا جھوٹا بالکل یہی حال علماے دیوبند کا ہے۔ جناب سعید احمد اکبر آبادی لاکھ کہتے رہیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ فرمایا ہے اور اس کے خلاف تھانوی صاحب نے یہ فرمایا، لہٰذا کس پر عمل کیا جائے؟ تو جواب ایک ہوگا، صرف ایک کہ ’’ہم مولانا تھانوی پر اعتبار کرچکے ہیں‘‘، معتبر نائی کی بات جھٹلائی نہیں جاتی۔ کیا آج کی دنیا میں اِس سے بڑھ کر شخصیت پرستی کی کوئی جیتی جاگتی مثال مل سکتی ہے کہ خود دیوبند کا ایک فاضل کہہ رہا ہے کہ تھانوی صاحب کی یہ ہدایت مصلحِ اعظم سرورِ کونین صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرتِ مقدسہ کے خلاف ہیں، اِس کے باوجود حضراتِ دیوبند خوابِ خرگوش میں پڑے سانس ڈکار نہیں لیتے، گویا گوارا ہے کہ رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ و سلم سے رشتہ و ناطہ ٹوٹ جائے، ’’حکیم الاُمت مولانا تھانوی‘‘ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اب جس کی عقل ماری گئی ہے وہ علماے دیوبند کی ہاں میں ہاں ملائے اور اُن کی جی حضوری ہی کو حاصلِ زندگی سمجھے لیکن خدا نے جس کو تھوڑی بہت عقل دی ہے (اور ایمان کی حلاوت بھی۔۔۔وجاؔہت) وہ سوچ سکتا ہے کہ علماے دیوبند کی نظر میں رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کی کیا حیثیت ہے اور ان کے خانہ ساز مجددِ اعظم مولانا تھانوی کی کیا حیثیت؟‘‘ (علامہ مشتاق احمد نظامی، خون کے آنسو، 1961ء، ناشر مکتبۂ پاسبان، الٰہ آباد، ص:155۔156) وہ عشرت موت ہے یاربّ جو نظر پر ڈال دے پردے وہ دولت قہر ہے دل کو جو تجھ سے بے خبر کردے معتزلیوں، وہابیوں اور دیگر بدمذہبوں کی اِنہی فتنہ انگیزیوں سے اپنے عقیدہ و ایمان کی حفاظت کی خاطر صدیوں سے ہمارے علما و مشائخ صاحبِ دلائل الخیرات کے الفاظ میں دعا مانگتے رہنے کی تلقین و تعلیم کرتے چلے آئے ہیں: اَللّٰھُمَّ یَارَبِّ بِجَاہِ نَبِیِّکَ الْمُصْطَفٰی وَرَسُوْلِکَ الْمُرْتَضٰی طَھِّرْ قُلُوْبِنَا مِنْ کُلِّ وَصْفٍ یُّبَا عِدُنَا عَنْ مَّشَاھَدَتِکَ وَ مَحَبَّتِکَ وَ اَمْتِنَا عَلَی السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَتِ وَالشَّوْقِ اِلٰی لِقَائِکَ یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَام۔ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ خَاتَمٍ النَّبِیِّیْن وَاِمَامِ الْمُرْسَلِیْنَ وَ عَلٰی اٰلِہ وَ صَحْبِہ اَجْمَعِیْنَ وَ سَلَّمَ تَسْلِیْمًا وَّ سَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ بشکریہ معارف رضا اگست 2009 |
|
|
|
| The Following 3 Users Say Thank You to مولوی جی For This Useful Post: |
|
|
#3 |
|
رفیق
Join Date: May 2007
Posts: 479
Thanks: 456
Thanked 798 Times in 147 Posts
|
جزاکم اللہ ھو خیرا آمین
__________________
ڈال دی قلب میں عظمت مصطفٰی
سیدی اعلٰیحضرت پہ لاکھوں سلام |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| اس, زود, پشیماں, کا, ہائے, ہونا |
| Thread Tools | |
| Display Modes | |
|
|
Similar Threads
|
||||
| Thread | Thread Starter | Forum | Replies | Last Post |
| دل ہائے گناہوں سے بیزار نہیں ہوتا | ارمان مدینہ | ارمغان مدینہ | 1 | 05-15-2010 12:16 AM |
| نہ آسمان کو يوں سر کشيدہ ہونا تھا | ارمان مدینہ | حدائق بخشش | 3 | 03-21-2010 05:10 PM |
| تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک | قادریہ | حدائق بخشش | 1 | 02-18-2010 08:32 PM |
| راہ پر خار ہے کیا ہونا ہے | کنزالایمان | حدائق بخشش | 3 | 02-14-2010 06:34 PM |
| آنکھوں کا روشن ہونا | صاحبزادہ | اوراد وظائف | 2 | 05-11-2007 01:13 PM |