![]() |
|
|||||||
| Some Details: Posted by مولوی جی on 12-23-2009 (02:15 AM), last reply was on 12-29-2009 (12:07 AM). This thread has received 1 replies and been viewed 204 times. |
![]() |
|
|
Thread Tools | Display Modes |
|
|
#1 |
|
امین
Join Date: Mar 2007
Posts: 174
Thanks: 235
Thanked 432 Times in 62 Posts
|
حضرت علامہ مفتی حسن حقانی
از: مولانا محمد امین نورانی ﴿جامعہ انوار القرآن، جامع مسجد مدنی، گلشن اقبال بلاک 5، کراچی﴾ کائنات زندگی کے لیے اللہ تبارک و تعالٰی نے یہ اصول وضع کیاہے کہ جو چیز پیدا کی جائے گی بنائی جائے گی اسے بہر حال ختم ہونا ہے چاہیے وہ کسی بھی حیثیت یا وضع کی ہو اور ظاہری بات ہے یہ اصول عالم انسانیت کے لیے بھی ہے کہ جو شخص پیدا ہوتا ہے اسے کبھی نہ کبھی موت کا ذائقہ چکھنا ہی ہوتا ہے مگر اس اشرف المخلوقات میں کچھ ایسے بھی افراد ہوتے ہیں جو اپنی حیات میں اپنی ذات میں انجمن بن جاتے ہیں اور اپنے کاموں، کارناموں اور اپنے عزم و ہمت سے اپنی تاریخ خود بناتے ہیں اس لیے ان کی رحلت سے نہ صرف اپنے عہد کا ایک بہت بڑا نقصان ہوتا ہے بلکہ ان پر تاریخ کا ایک باب ختم ہوجاتا ہے۔ ایسی ہی ایک عظیم شخصیت استاذ الاساتذہ، قدوۃ العلما حضرت علامہ مفتی محمد حسن حقانی اشرفی کی ہے جو حال ہی میں اپنی حیاتِ مستعار کے اٹھتر سال گزارنے کے بعد اس عالم فانی سے عالمِ بقا کی طرف کوچ کرگئے اور اپنے پیچھے ہزاروں شاگردوں، علما، طلبا اور کارکنوں کو ملول و محزون چھوڑ گئے۔ حضرت علامہ حقانی صاحب بن مفی آگرہ مفتی عبد الحفیظ حقانی (1900ء،م1958ء) بن علامہ عبد المجید (1872ءم1943ء) یکم دسمبر (1930ء) کو صوبۂِ یوپی کے فیض آباد کی تحصیل ٹانڈہ میں پیدا ہوئے آپ کا تاریخی نام عظیم الرحمٰن (1349) تھا آپ کا تعلق شیخ انصاری برادری سے تھا۔ آپ کے والد ماجد مفتیِ آگرہ مفتی عبد الحفیظ چونکہ ایک کامیاب مناظر اور خطیبِ بے بدل اور منجھے ہوئے مدرس تھے اسی لیے زیادہ تر ان کا وقت سفر میں گزرتا اور آپ کبھی امرتسر، کبھی دہلی، کبھی آگرہ، کبھی بریلی اور کبھی ٹانڈہ کےسفر پر ہوتے ۔اس لیے آپ بھی اپنے والدِ ماجد کے ہمراہ ہوتے آپ نے ابتدا میں قرآنِ کریم حفظ کرنا شروع کیا مگر 14 پارے ہی حفظ کیے تھے کہ شدید بیمار ہوگئے اور دو سال تک بیمار رہے جس کی وجہ سے قرآنِ کریم حفظ نہ کرسکے جس کا آپ کو ہمیشہ ملال رہتا مگر آپ کی نگاہِ بصیرت یہ تھی کہ اگر کوئی قرآنِ کریم میں غلطی کرتا تو آپ فورًا اسے لقمہ دیتے اسی لیے اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ آپ حافظِ قرآن تھے۔ اس کے بعد آپ کو آپ کے والدِ گرامی نے خود ہی تمام کتبِ درسیہ وقتاً فوقتاً پڑھائیں چنانچہ میزان الصرف سے لے کر تفسیرِ بیضاوی، مشکوٰۃ شریف، ہدایہ مطول وغیرہ ساری کتب آپ نے اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں ان کے علاوہ استاذ الوقت حضرت علامہ سید فضلِ کریم شاہ بہاری جو کہ حضرت حکیم برکات احمد ٹونکی کے خاص شاگرد تھے اور کافی ضعیف تھے ان سے آپ نے نحوِ میر اور منطق کی ابتدائی کتب پڑھیں۔ دورانِ تعلیم ہی تحریکِ پاکستان میں حصہ لیا اور 1945ء میں مسلم لیگ نیشنل گارڈ میں شامل ہوگئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی آپ آگرے ہی میں متمکن رہے اور وہاں موجود مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے پہلے ایک ریلیف کمیٹی قائم کی 1951ء میں آپ نے احباب کے ساتھ مل کر بزمِ احباب نامی ایک تنظیم قائم کی اس بزم کے تحت آگرہ میں تعلیمِ بالغاں کے لیے شبینہ سکول قائم کیا۔ آگرے میں حزب الاحناف نامی تنظیم میں بھی آپ سرکر رہ ہنما تھے جس کےتحت سالانہ جلسے اور سیمینار منعقد کیے جاتے جن میں ہندوستان سے علما و مشائخ کی بڑی تعداد شریک ہوتی ایسے ہی ایک سہ روزہ کانفرنس میں قائدِ اہلسنت حضرت علامہ شاہ احمدنورانی صدیقی، شارح بخاری علامہ سید محمود احمد رضوی اور سلطان الواعظین علامہ ابو النور محمد بشیر کوٹلوی نے شرکت کی تھی۔ 1951ءمیں آپ نے یوپی بورڈ سے مولوی کا امتحان اور 1952ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا جب کہ 1953ء میں الٰہ آباد بورڈ سے عالم اور 1954ء میں انٹر کا امتحان پاس کیا۔ اور امتحان سے فراغت کے بعد ہی عارضی طور پر کراچی کےلیے اکیلے ہی روانہ ہوگئے۔ کراچی پہنچنے کے بعد آپ نے یہیں مستقل رہائش اختیار کرنے کا ارادہ کرلیا اور اپنے اہلِ خانہ اور والدین کو پاکستان بلالیا اس دوران 1954ء تا 1958ء آپ نے کئی جگہ ملازمت کی پہلے آپ پاکستان نیوی میں ملازم ہوئے CID پولیس محکمۂ انسدادِ رشوت ستانی میں کام کیا۔ 1955ء میں آپ کے والدِ گرامی مفتیِ آگرہ علامہ عبد الحفیظ کراچی تشریف لائے تو ابتداءً جناح مسجد برنس روڈ میں مفتی و خطیب رہے اور پھر مدرسۂ دارالعلوم مظہریہ، جامع مسجد آرام باغ میں مفتی، مدرس اور شیخ الحدیث مقرر ہوئے یہاں آپ سے استفادہ کرنے والوں میں قائد اہلِ سنت حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی بھی شامل تھے۔ 1957ء میں حضور غزالیِ زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی� کی دعوت پر مفتیِ آگرہ حضرت علامہ عبد الحفیظ� جب ملتان شریف جانے لگے تو آپ کو بھی ساتھ جانے کا حکم دیا تو سرکاری ملازمت چھوڑ کر عازمِ ملتان ہوگئے اور مدرسۂ انوار العلوم، ملتان میں داخلہ لے لیا جہاں آپ نے اپنے والدِ ماجد کے علاوہ غزالیِ زماں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی، مفتی سید مسعود علی خاں قادری، مفتی امید علی خاں گیاوی، مولانا عبد الکریم جامپوری اور مولانا محمد جعفر جیسے جید اور ماہر اساتذہ سے استفادہ کیا۔ 1958ء میں خانقاہِ عالیہ کچھوچھہ شریف کے سجادہ نشیں حضرت پیر سید محمد مختار اشرف اشرفی جیلانی ملتان تشریف لائے تو آپ نے ان کے دستِ اقدس پر بیعت کی۔ قیامِ ملتان کے دوران آپ نے انجمن اشاعت حق کے نام سے ایک جماعت بنائی آپ اس کے نائب صدر مقرر کیے گئے آپ کے ملتان کے ساتھیوں میں مفتی مصطفیٰ رضوی وغیرھم تھے۔ 23 جون 1958ء کو آپ کے والدِ ماجد مفتیِ آگرہ کا ملتان میں انتقال ہوگیا اور وہیں حسن پروانہ قبرستان میں مدفون ہوئے۔ والدہ کی عدت گزرجانے کے بعد تمام گھر والوں کو لے کر کراچی آگئے اور یہاں آکر 1959ء میں حضرت شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری سے دورہٴ حدیث پڑھا جس کا امتحان مفسر اعظم ہند نبیرہِٴ اعلیٰ حضرت علامہ ابراہیم رضا خاں نے لیا اورآپ کے بارے میں علامہ ازھری سے فرمایا کہ ان کو اپنے ہاں مدرس رکھو۔ چنانچہ آپ دارالعلوم امجدیہ ہی میں مدرس رکھ لیے گئے۔ کچھ عرصے بعد اپنے استاد علامہ ازہری کی اجازت سے انجمن اسلامیہ اسکول، لیاقت آباد میں عربی و اسلامیات میں استاد کے منصب پر فائز ہوئے اور 1960 تا 1964ء چار سال وہاں ملازمت کی۔ 1964ء میں جب دارالعلوم امجدیہ کی تعمیر نو ہوئی تو آپ علامہ ازہری کے حکم پر سکول کی ملازمت چھوڑ کر دارالعلوم امجدیہ آگئے اور وہاں ناظم تعلیمات، ناظمِ اعلیٰ، نائب مہتمم اور ٹرسٹی رہے اور 1992ء میں از خود ہی ان تمام ذمے داریوں سے مستعفی ہوگئے۔ اسی دوران آپ جمعیتِ علماے پاکستان کے لیے بھی کام کرتے رہے۔ چونکہ آپ پیر کالونی میں رہائش پذیر تھے اور صدرِ جمعیت حضرت علامہ عبد الحامد بدایونی بھی پیر کالونی میں سکونت پذیر تھے بلکہ آپ کے مقتدی تھے اس لیے ان سے نیاز مندی کا رشتہ بھی تھا۔ ایوبی مارشل لا میں جب سیاسی تناظیم پر پابندی عائد کی گئی تو اس وقت انجمنِ تبلیغِ اسلام بنائی گئی جس میں آپ نے فعال کردار ادا کیا اور پھر 1967 میں صدرِ جمعیت حضرت علامہ عبد الحامد بدایونی سے چند اصولی اختلافات ہوئے اور آپ کے احباب (جن میں قائدِ اہلسنت حضر ت علامہ شاہ احمد نورانی، شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفےٰ ازہری، مفتی سید شجاعت علی قادری، علامہ سید سعادت علی قادری وغیرھم تھے) نے مل کر مکرانی مسجد جہاں آپ امام و خطیب تھے اسی کے حجرے میں جماعت اہلِ سنت قائم کی۔ اور آپ اس کے پہلے جوائنٹ سیکریٹری مقرر ہوئے۔ 1970ء میں جب اکابرین اہلسنت خصوصاً حضرت علامہ مفتی سید ابو البرکات احمد شاہ قادری نے اہلِ سنت کی ناگفتہ بہ صورت حال اور جمعیت علماے پاکستان کی تقسیم در تقسیم کے خاتمے کے لیے حزب الاحناف لاہور میں اجلاس طلب فرمایا تو آپ بھی اس میں شریک ہوئے اور نظامت کے فرائض سر انجام دیے۔ اس اجلاس میں ملکی سیاست میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان کیا گیا تو آپ بھی وادیِ سیاست میں عملاً وارد ہوئے اور 1770ء کےالیکشن میں حلقۂِ لانڈھی کورنگی سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا تو بھرپور کامیابی حاصل کی، آپ کو 1970ء میں جمعیت علماے پاکستان صوبۂ سندھ کانائب ناظم، مرکزی عاملہ و شورٰی کارکن اور صوبائی پارلیمانی بورڈ کا ممبر مقرر کیا گیا۔ آپ نے اسمبلی کی ممبر شپ میں بھرپور کردار ادا کیا آپ 1972ءتا 1974ء کراچی کے ناظمِ اعلیٰ بھی رہے۔ مگر آپ کا طریقۂِ کار یہ ہوتا کہ صبح دارالعلوم امجدیہ میں تدریس، دوپہر کو اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور شام سے رات گئے تک تنظیمی امور کو سر انجام دینا اس دوران 1973ء میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف تحریکِ جمہوریت چلی تو آپ نے بھرپور حصہ لیا اور اس جرم کی پاداش میں تقریباً 2 ماہ کراچی سنٹرل جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ 1974 سے 1982ءتک آپ JUP سندھ کے ناظم اعلیٰ رہے ۔1974ءکی تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے قائدِ اہلِ سنت کے ہمراہ نہ صرف سندھ بلکہ پنجاب، سرحد اور بلوچستان میں جلسوں سے خطاب کیا۔ جمعیت علماے پاکستان کی تاریخ میں خانیوال کنونشن ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے جس میں جمعیت علماے پاکستان کا تنظیمی دستور مسلسل 17 گھنٹے کی بحث کے بعد منظور کیا گیا۔ اس دستور کو آپ نے مرتب کیا تھا اور آپ ہی نے پیش کیا ۔ 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد کا قیام عمل میں آیا تو آپ نے جےیوپی کی طرف سے قومی اتحاد کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا بڑا اور تمام تر دھاندلیوں کے باوجود واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی مگر جب اس کے بعد تحریکِ نظامِ مصطفیٰ چلی تو آپ نے اتحاد کے فیصلے کے مطابق اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا اور تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور اس سلسلے میں آپ کو بھی دیگر قائدین کی طرح گرفتار کرلیا گیا اور آپ کو سکھر جیل میں بھیجا گیا جہاں آپ تقریباً 3 ماہ قید میں رہے۔ 1978ء میں کل پاکستان سنی کانفرنس ملتان کے موقع پر غزالیِ زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی کو صدر اورآپ کو مرکزی نائب صدر مقرر کیا گیا جس پر آپ 1986ء تک متمکن رہے۔ 1983ء میں لاہور میں آپ کی زیر قیادت ایک دستور ساز کمیٹی تشکیل دی گئی تو آپ نے چند ہی ایام میں جماعتِ اہلِ سنت کا دستور مرتب فرماکر مرکزی ناظمِ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی مختار احمدنعیمی کو بھیج دیا۔ آپ تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے عرصہٴ دراز تک امتحانی بورڈ کے رکن مساوی میٹرک و انٹر کے انچارج اور صوبۂ سندھ کے ناظم بھی رہے۔ 1989ء میں آپ کو آپ کے پیر و مرشد حضرت قبلہ پیر سید مختار اشرف اشرفی جیلانی زیب سجادہ آستانۂ عالیہ کچھوچھہ شریف نے تمام سلاسل کی خلافت عطا فرمائی۔ 1992ء میں آپ جماعتِ اہلسنت، جمعیت علماے پاکستان، تنظیم المدارس اور دارالعلوم امجدیہ کی طرف سے سپرد کردہ تمام ذمے داریوں سے از خود سبک دوش ہوگئے۔ آپ نے JUP سے رکنیت کی حد تک تعلق رکھا مگر قائدِ اہلِ سنّت نے آپ کو تاحیات مرکزی مجلس عاملہ و شوریٰ کا ممبر نامزد کردیا۔ یوں آپ تا دمِ واپس جمعیت کےممبر مجلس عاملہ تھے آپ فرماتے تھے کہ جمعیت علماے پاکستان میں شمولیت میں نے خود ہی اختیار کی تھی لہٰذا اب میں اسے نہیں چھوڑ سکتا جبکہ باقی عہدے مجھے خود بخود مل گئے تھے اس لیے میں نے انہیں چھوڑ دیا دوسرا یہ کہ میں نے جس کو ایک مرتبہ اپنا لیڈر مان لیا تو مان لیا اس لیے قائدِ اہلِ سنت نورانی میاں کے علاوہ اب میں کسی اور کو لیڈر اور اپنا قائد نہیں مان سکتا۔ آپ اکثر فرماتے تھے کہ ضیا دور میں جب جمعیت انتشار کاشکار ہوئی تو مجھ پر بھی ترغیب و تحریص کی بارش شروع ہوگئی حتیٰ کہ مجھے اپنے بڑوں کی طرف سے حکم بھی ملا مگر میں نے جمعیت کو چھوڑنے اور اپنے قائد سے بے وفائی کرنے سے انکار کردیا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آپ کے قائدِ اہلِ سنت کے ساتھ تعلقات انتہائی بے تکلفانہ اور برادرانہ تھے۔ آپ خود فرماتے تھےکہ یہ صحیح ہے کہ میں اور نورانی میاں بچپن کے دوست اور کلاس فیلو ہیں مگر جب میں نے ان کو لیڈر مان لیا تو اب وہ میرے لیڈر ہیں اور میں ان کا کارکن ہوں۔ اسی لیے جب بھی آپ کو عارضی طور پر کوئی ذمے داری دی جاتی تو آپ اس کو قبول کرتے اور بہ حسن و خوبی انجام دینے کی کوشش کرتے جیسا کہ بلدیاتی الیکشن 2001 ءمیں کراچی کی ذمے داریاں آپ کو دیں گئی جسے آپ نے بڑی خوب صورتی سے نبھایا۔ اسی طرح وقتاً فوقتاً قائدِ اہلِ سنت سے ملاقات کے لیے آپ جاتے اور کبھی قائدِ اہلِ سنت آپ سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے۔ خصوصاً رمضان المبارک کے آخری عشرے میں رات کو ایک طویل ملاقات حضرت قائدِ اہلِ سنت کے دولت کدے پر ضرور ہوتی۔ جس میں آپ اور حضرت قائدِ اہلِ سنت کے علاوہ کوئی موجود نہ ہوتا مگر اس فقیر کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ وہ ایسی کئی ملاقاتوں میں حاضر رہا۔ حضرت استاذ العلما کے اہلِ سنت کے تمام ہی افراد اور گروہوں سے نہایت اچھے تعلقات تھے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد بار آپ نے اہلِ سنت کے تمام افراد و گروہوں میں اتحاد کی کوششیں کیں مگر ہر بار اس میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ آتی گئی جس کی وجہ سے آپ کی کوششیں کارگر ثابت نہ ہوسکیں۔ 1992ء کے بعد آپ نے جامع مسجد مدنی، گلشن اقبال بلاک 5، کراچی کا مکمل انتظام و انصرام سنبھالا اور ساتھ ہی وہاں جامعہ انوار القرآن کے نام سے ایک مدرسے کی بنیاد ڈالی جو کہ آپ کی محنت، تعلیم و تربیت اور حسن انتظام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حضرت استاذ محترم کی پوری زندگی مسلسل، عزم و ہمت اور رعب و دبدبے سے بھرپور تھی۔ آپ نے اپنی پوری زندگی کسی کے بل بوتے اور اپنے آبا واجدا کے نام پر نہیں بلکہ خود گزاری۔ آپ کو ملنے والے تمام مناصب اور عہدے صرف اور صرف آپ کے خلوص اور قابلیت پر ملے اور پھر آپ نے ان تمام کاموں سے انصاف بھی کیا۔ یہ آپ کا خلوص ہی تھا کہ آپ نے تمام مناصب و عہدے خود سے چھوڑے اور آپ کے استعفیٰ دینے کے بعد بھی کئی مرتبہ آپ کو ان عہدوں کی باقاعدہ پیشکش ہوئی مگر آپ نے انھیں قبول کرنے سے انکار کردیا آپ فرماتے تھے کہ میں اب صرف پڑھانا ہی چاہتا ہوں اور جب تک مجھ میں دم ہے میں پڑھاتا ہی رہوں گا۔ یہ فقیر 1992ء سے تا وقتِ وصال مسلسل آپ کی خدمت میں رہا مگر اس نے آپ کو مدرسے کا ایک نوالہ بھی کھاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ مدرسے کے مختارِ کل تھے مگر صرف اور صرف ماہانہ وظیفے کے علاوہ کچھ بھی وصول نہ فرماتے یہی وجہ ہے کہ وقتِ وصال نہ آپ نے کوئی جائیداد چھوڑی نہ بینک بیلنس بلکہ جس فلیٹ میں آپ رہائش پذیر تھے وہ بھی آپ کے صاحبزادے کا ہے۔ حیاتِ مستعار کے آخری حصّے میں کئی عوارضات آپ کے ساتھ لاحق ہوگئے تھے، بلڈ پریشر، شوگر، گھٹنوں میں درد، آنکھوں کے آپریشن کے ساتھ ساتھ مستقل بخار کی کیفیت نے آپ کو کافی مضمحل کردیا تھا اور بالآخر 78 سال کی عمر میں 11جون بروز جمعرات شام سوا سات بجے کل تین دن ہاسپٹل میں رہنے کے بعد آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ آپ کی نمازِجنازہ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے عزیز شاگرد اور آپ کی قائم کردہ جامع مسجد مدنی کے خطیب اور آپ کے بعد جامعہ انوار القرآن و جامع مسجد مدنی کے سرپرست حضرت علامہ رضوان نقشبندی صاحب نے پڑھائی۔ آپ کو جامع مسجد مدنی کے احاطے میں سِپردِ خاک کیا گیا۔ آپ نے پس ماندگان میں دو بیٹے، دو بیٹیاں اور ایک بیوہ کے علاوہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہزاروں شاگرد، لاتعداد کارکنان اور بے شمار چاہنے والے چھوڑے۔ بشکریہ معارف رضا اگست 2009 |
|
|
|
|
|
#2 |
|
رکن
Join Date: Nov 2006
Posts: 4,323
Thanks: 3,982
Thanked 4,061 Times in 888 Posts
|
__________________
امتحا ن کے کہا ں قا بل ہوں میں پیا رے ا للہ
بے سبب بخش دے مولا تیرا کیا جا تا ہے دعا گو و طلب گاردعا |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| حسن, حضرت, حقانی, علامہ, مفتی |
| Thread Tools | |
| Display Modes | |
|
|
Similar Threads
|
||||
| Thread | Thread Starter | Forum | Replies | Last Post |
| حضرت علامہ مولانا ابوداود محمد صادق قادری رضوی | شعیب قادری | علماءکرام | 2 | 10-08-2009 12:55 AM |
| حضور مفتیٔ اعظم ہند حضرت علامہ مصطفی رضا خاں صاحب | قادری | جامع الاحادیث | 4 | 08-05-2009 04:06 PM |
| حجۃ الاسلام حضرت علامہ شاہ محمد حامد رضا خانصاحب | قادری | جامع الاحادیث | 5 | 07-31-2009 06:03 PM |
| علامہ نعیمی و حسن حقانی کے ایصال ثواب کیلئے دارالعلوم احسن البرکات میں قرآن خوانی | قادری | اہلسنت اردو خبریں | 0 | 06-18-2009 04:26 AM |