نماز کی اہمیت اور عورتوں کی نماز سوال ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں نماز کی اہمیت اور فرضیت بیان فرمائیے ۔ نیز عورتوں کی نماز کن معاملات میں مردوں سے مختلف ہے؟
جواب۔ ایمان اور عقائد کی درستگی کے بعد فرائض میں سب سے اہم فریضہ نماز ہے۔ ارشاد باری تعالی ہوا، (اور نماز قائم رکھو اور زکوہ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو)۔ (البقرہ ، ۴۳، کنز الایمان) دوسری جگہ فرمایا، (نگہبانی کرو سب نمازوں کی اور بیچ کی نماز (عصر ) کی)۔ (البقرہ ۲۳۸، کنز الایمان)
ایک جگہ بے نمازیوں کے لیے یوں و عید فرمائی گئی ، (تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں (یعنی ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غئی کا جنگل پائیں گے)۔ (مریم ۵۹، کنز الایمان)
غئی دوزخ کے نچلے حصے میں ایک کنواں ہے جس میں اہل دوز کی پیپ گرتی ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ جہنم کی سب سے زیادہ گرم اور گہری وادی ہے اور اس میں ایک کنواں ہے ۔ جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے تو اللہ عزوجل اس کنوئیں کو کھول دیتا ہے جس سے وہ بدستور بھڑکنے لگتی ہے ۔ یہ کنواں بے نمازیوں، زانیوں، شرابیوں، سود خوروں اور والدین کو ایذا دینے والوں کے لیے ہے۔
صدر لشریعہ علامہ مولانا امجد علی اعظمی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں، نماز کو مطلقا چھوڑ دینا تو سخت ہولناک بات ہے نماز قضا کرنے والوں کے لیے رب تعالی فرماتا ہے، خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں، وقت گذار کر پڑھنے اٹھتے ہیں۔(الماعون،۴)جہنم میں ایک وادی ہے جس کی سختی سے جہنم بھی پناہ مانگتا ہے اس کا نام ویل ہے ۔ قصدا نماز قضا کرنے والے اس کے مستحق ہیں۔ (بہار شریعت حصہ سوم)
آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا، اگر کسی کے دروازے پر ایک نہر جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہے گا؟ عرض کی، بالکل نہیں۔ ارشاد فرمایا ، یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے کہ ان کی برکت سے اللہ تعالی سب گناہ مٹا دیتا ہے۔ (بخاری ، مسلم) یہاں گناہ سے مراد صغیرہ گناہ ہیں کبیرہ گناہ سچی توبہ سے اور حقوق العباد ادا کرنے سے معاف ہوتے ہیں۔
آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ، بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے۔ (مسلم) دوسری جگہ فرمایا، نماز دین کا ستون ہے ۔ جس نے اسے قائم رکھا اس نے دین کو قائم رکھا جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے دین کو ڈھادیا۔ (بہار شریعت ) ایک حدیث پاک میں پابندی سے سب نمازیں خشوع و خضوع سے ادا کرنے والوں کو مغفرت کی خوشخبری دی گئی ۔ (ابو داؤد) ان آیات کریمہ و احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان بالغ مرد و عورت پر پانچوں وقت نماز کی پابندی لازم ہے ۔ نیز تمام حقوق و آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے خشوع و خضوع سے نماز ادا کرنی چاہیے۔
نماز کی ایک اہم شرط طہارت ہے۔ بعض خواتین نیل پالش لگاتی ہیں جس کے باعث ان کا وضو نہیں ہو پاتا۔ یونہی غسل یا تیمم کرنے سے بھی انہیں پاکی حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ ناخنوں پر پالش کی تہہ جم جاتی ہے اس لیے نیل پالش دور کرنا اور ایسی چیزوں سے بچتے رہنا طہارے کے حصول کے لیے بیحد ضروری ہے البتہ مہندی کا رنگ جائز ہے۔
خواتین وضو یا غسل کے وقت اس بات کی احتیاط ر کھیں کہ ہر عضو پر پانی بہہ جائے۔ لہذا انگوٹھی ، چھلے، نتھ اور دیگر زیوارات ہٹا کر انکی جگہ پا نی پہنچانا اور تیمم کی صورت میں ہاتھ پھیرنا ضروری ہے۔
اب ہم عورتوں کی نماز سے متعلق خاص خاص باتیں تحریر کرتے ہیں۔ نماز سے قبل خواتین کو اس بات کا اطمینان کرلینا چاہیے کہ ان کہ چہرے ، ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں کے سوا تمام جسم وبیز کپڑے سے ڈھکا ہوا ہے۔ ایسا باریک کپڑا جس سے بدن کی رنگت جھلکتی ہو یا ایسا دوپٹہ جس سے بالوں کی سیاہی چمکے ستر یعنی پردے کے لیے کافی نہ ہوگا ایسا لباس یا دوپٹہ وغیرہ پہن کر نماز پڑھی تو نماز نہ ہوگی۔ گردن ، کان، سر کے لٹکتے ہوئے بال اور کلائیاں چھپانا بھی فرض ہے۔
چہرے ، ہتھیلیوں ارو پاؤں کے تلووں کے سوا کوئی عضو نماز شروع کرتے وقت چوتھائی مقدار میں کھلا ہو اور اسے چھپائے بغیر (اللہ اکبر ) کہہ لیا تو نماز شروع ہی نہ ہوئی۔ اور اگر نماز کے دوران کوئی عضو چوتھائی کے برابر اتنی دیر کھلا رہا جس میں تین بار (سبحان اللہ ) کہا جاسکے تو نماز نہ ہوئی۔
خواتین نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھ کانوں کی بجائے صرف کندھوں تک اٹھائیں ا ور انہیں دوپٹوں سے باہر نہ نکالیں۔ پھر تکبیر تحریمہ کہہ کر باتیں ہتھیلی سینے پر رکھ کر اس کی پشت پر دائیں ہتھیلی رکھیں۔
رکوع کرتے وقت صرف اتنا جھکیں کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں، انگلیاں باہم ملی ہوئی ہوں ۔ اور گھٹنوں کو آگے کی طرف ذرا سا خم دے کر کھڑی رہیں، نیز ان کے باز و پہلوؤں سے ملے ہوئے ہوں۔
خواتین سجدہ سمٹ کر کریں یعنی پیٹ رانوں سے اور رانیں پنڈلیوں سے اور پنڈلیاں زمین سے اور بازو پہلوئیوں سے ملادیں اور کلائیاں زمین پر بچھا دیں نیز پاؤں کھڑے کرنے کی بجائے دائیں طرف نکال کر بچھادیں۔
قعدہ میں دونوں پاؤں دائیں جانب نکال دیں اور بائیں کولھے پر بیٹھیں۔ خواتین کے لیے گھر کے اندر یعنی کمرے میں نماز پڑھنا صحن میں نماز پڑھنے سے اور تہہ خانے میں نماز پڑھنا کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔(ابو داؤد)
آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہء اقدس میں عورتوں کو با جماعت نماز کے لیے مساجد میں آنے کی اجازت تھی لیکن جب فتنہ ظاہر ہونے لگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں مساجد میں آنے سے منع فرمادیا۔ بعض خواتین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر شکایت کی کہ ہمیں مسجد آنے سے روک دیا گیا ہے، تو آپ نے ارشاد فرمایا، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے زمانے کی عورتوں کو ملاحظہ فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عورتوں کو مسجد جانے سے منع فرمادیتے جیسے بنی اسرائیل نے اپنی عورتوں کو منع کردیا تھا۔ (بخاری ، مسلم) اسی لیے فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی نے فرمایا ، خواتین کو کسی بھی با جماعت نماز کے لیے مسجد جانا منع ہے خواہ دن کی نماز ہو یا رات کی ، جمہ کی ہو یا عیدین کی، عورت چاہے جوان ہو یا بوڑھی ۔ ( بہار شریعت بحوالہ در مختار ، فتح القدیر، فتاوی رضویہ) |